موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ الْمَقَامِ عِنْدَ الْبِكْرِ وَالْأَيِّمِ باب: ثیبہ اور باکرہ کے پاس رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، قَالَ لَهَا : " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ، وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ، وَدُرْتُ " . فَقَالَتْ : ثَلِّثْ علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسا کام نہ کروں گا جس کے سبب سے تو اپنے لوگوں میں ذلیل ہو، اگر تجھ کو منظور ہے تو سات دن تک تیرے پاس رہوں گا، پھر سات سات دن ہر ایک بی بی کے پاس رہوں گا، اور اگر تو چاہے تو تین دن تیرے پاس رہوں اور ایک ایک دن سب کے پاس رہ کر آؤں۔“ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تین دن رہیے۔