موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِرْخَاءِ السُّتُورِ باب: خلوت صحیحہ کے بیان میں
حدیث نمبر: 1086
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا، صُدِّقَ الرَّجُلُ عَلَيْهَا، وَإِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ، صُدِّقَتْ عَلَيْهِ " .علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ جب مرد عورت کے گھر میں جائے تو مرد کی تصدیق ہوگی، اور جو عورت مرد کے گھر میں جائے تو عورت کی تصدیق ہوگی۔
قَالَ مَالِكٌ : أَرَى ذَلِكَ فِي الْمَسِيسِ، إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا فِي بَيْتِهَا، فَقَالَتْ : قَدْ مَسَّنِي، وَقَالَ : لَمْ أَمَسَّهَا، صُدِّقَ عَلَيْهَا، فَإِنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ : لَمْ أَمَسَّهَا، وَقَالَتْ : قَدْ مَسَّنِي، صُدِّقَتْ عَلَيْهِعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مطلب اس کا یہ ہے کہ جب مرد عورت کے گھر میں رہے، پھر اختلاف ہو۔ عورت کہے مجھ سے جماع کیا ہے، اور مرد کہے نہیں کیا ہے، تو مرد کی بات کا اعتبار ہوگا۔ اور جو عورت مرد کے گھر میں رہے، پھر اختلاف ہو تو عورت کی بات کا اعتبار ہوگا۔