موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّدَاقِ وَالْحِبَاءِ باب: مہر کا اور حبا کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ ؟ " فَقَالَ : مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ، جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا "، فَقَالَ : مَا أَجِدُ شَيْئًا . قَالَ : " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ "، فَالْتَمَسَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ، مَعِي سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا کہ تحقیق بخشی میں نے اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے، اور کھڑی رہی دیر تک، پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس سے میرا نکاح کر دیجیے اگر اس سے نکاح کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ حاجت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ مہر میں دے اس کو؟“ وہ شخص بولا: سوائے اس تہبند کے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنا تہبند اس کو دے دے گا تو بغیر تہبند کے بیٹھے گا، کوئی چیز ڈھونڈ لے۔“ اس نے کہا: مجھے کچھ نہیں ملتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھونڈ اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو۔“ اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ ملا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے قرآن یاد ہے؟“ بولا: ہاں، فلانی فلانی سورۃ یاد ہے، کئی سورتوں کا نام لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے نکاح کردیا اس عورت کا تیرے ساتھ اس قرآن کے عوض میں جو تجھ کو یاد ہے۔“