موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ اسْتِئْذَانِ الْبِكْرِ وَالْأَيِّمِ فِي أَنْفُسِهِمَا باب: عورت بکر اور ثیبہ سے اذن لینے کا بیان
حدیث نمبر: 1079
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، " كَانَا يُنْكِحَانِ بَنَاتِهِمَا الْأَبْكَارَ، وَلَا " .علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اپنی بکر بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے، اور ان سے نہیں پوچھتے تھے۔
قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي نِكَاحِ الْأَبْكَارِعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک ایسا ہی حکم ہے بکر عورتوں میں۔
قَالَ مَالِكٌ : وَلَيْسَ لِلْبِكْرِ جَوَازٌ فِي مَالِهَا، حَتَّى تَدْخُلَ بَيْتَهَا، وَيُعْرَفَ مِنْ حَالِهَاعلامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: بکر کو اپنے مال میں تصرف نہیں پہنچتا جب تک اپنے خاوند کے گھر میں نہ آئے، اور اس کا حال نہ معلوم ہو۔