موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الضحايا— کتاب: قربانیوں کا بیان
بَابُ ادِّخَارِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ باب: قربانی کا گوشت رکھ چھوڑنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَتْ : صَدَقَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ : دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ "، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ بِضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا ذَلِكَ ؟ " أَوْ كَمَا قَالَ . قَالُوا : نَهَيْتَ عَنْ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَادَّخِرُوا " . يَعْنِي بِالدَّافَّةِ قَوْمًا مَسَاكِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَسیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا قربانیوں کے گوشت کھانے سے بعد تین دن کے۔ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میں نے یہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے بیان کیا، وہ بولیں: سچ کہا سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ عنہ نے۔ میں نے سنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ کچھ لوگ جنگل کے رہنے والے آئے عید الاضحیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”تین دن تک کا گوشت رکھ لو اور باقی اللہ کے لیے دے دو بعد اس کے۔“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قبل اس کے لوگ اپنی قربانیوں سے منفعت اٹھاتے تھے، اور چربی ان کی اٹھا رکھتے تھے، اور کھالوں کی مشکیں بناتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب ہے۔“ انہوں نے عرض کیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا ہے تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو رکھنے کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس واسطے کیا تھا کہ کچھ لوگ مسکین جنگل سے آ گئے تھے، اب قربانی کا گوشت کھاؤ اور صدقہ دو اور رکھ چھوڑو۔“