موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الضحايا— کتاب: قربانیوں کا بیان
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَايَا باب: جس جانور کی قربانی مستحب ہے اس کا بیان
عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ - قَالَ نَافِعٌ : فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلًا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الْأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ : فَفَعَلْتُ. ثُمَّ حُمِلَ إِلَى عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذُبِحَ الْكَبْشُ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ : لَيْسَ حِلَاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى، وَقَدْ فَعَلَهُ ابْنُ عُمَرَ.نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قربانی کی ایک بار مدینہ میں تو مجھ کو حکم کیا ایک بکرا سینگ دار خریدنے کا، اور اس کے ذبح کرنے کا عید الاضحیٰ کے روز عیدگاہ میں، میں نے ایسا ہی کیا، پھر وہ بکرا ذبح کیا ہوا بھیجا گیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس، جب انہوں نے اپنا سر منڈایا، ان دنوں میں وہ بیمار تھے، عید کی نماز کو بھی نہیں آئے۔ کہا نافع نے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ سر منڈانا قربانی کرنے والے پر واجب نہیں ہے، مگر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یوں ہی سر منڈایا۔