موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقيقة— کتاب: عقیقے کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي الْعَقِيقَةِ باب: عقیقے کی ترکیب کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ " كَانَ يَعُقّ عَنْ وَالْإِنَاثِ بِشَاةٍ شَاةٍ " .حضرت عروہ بن زبیر اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، ایک ایک بکری کرتے تھے عقیقے میں۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ : أَنَّ مَنْ عَقَّ، بَنِيهِ الذُّكُورِ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ، شَاةٍ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ، وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا، فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ، فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا، لَا يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ، وَلَا عَجْفَاءُ، وَلَا مَكْسُورَةٌ، وَلَا مَرِيضَةٌ، وَلَا يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ، وَلَا جِلْدُهَا، وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا، وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا، وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا، وَلَا يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَيْءٍ مِنْ دَمِهَاامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ لڑکا ہو یا لڑکی ہر ایک کی طرف سے ایک بکری دے، اور عقیقہ واجب نہیں ہے مستحب ہے، مگر عقیقے کی بکری مثل قربانی کے چاہیے، کانی اور دبلی اور سینگ ٹوٹی اور بیمار نہ ہو۔ اور عقیقے کا گوشت اور کھال بیچنا درست نہیں، اور ہڈیاں اس کی توڑنا چاہیے، اور عقیقہ کرنے والے عقیقے کے گوشت میں سے کھائیں اور فقیروں کو کھلائیں، اور عقیقے کی بکری کا خون بچے کو نہ لگائیں۔