موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيد— کتاب: شکار کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ باب: مردار کی کھالوں کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جو بی بی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”مردار کی کھالوں سے نفع اٹھانے کو جب دباغت کی جائیں۔“
عَنْ مَالِكٍ أَنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَى الْمَيْتَةِ، أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهَا، حَتَّى يَشْبَعَ وَيَتَزَوَّدُ مِنْهَا، فَإِنْ وَجَدَ عَنْهَا غِنًى طَرَحَهَا. وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَى الْمَيْتَةِ أَيَأْكُلُ مِنْهَا؟ وَهُوَ يَجِدُ ثَمَرَ الْقَوْمِ، أَوْ زَرْعًا أَوْ غَنَمًا بِمَكَانِهِ ذَلِكَ؟امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مضطر کو درست ہے کہ مردار کو پیٹ بھر کر کھائے، اور اس میں سے کچھ توشہ اٹھا رکھے، لیکن اگر حلال مل جائے تو اس توشہ کو پھینک دے۔
قَالَ مَالِكٌ : إِنْ ظَنَّ أَنَّ أَهْلَ ذَلِكَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ أَوِ الْغَنَمِ يُصَدِّقُونَهُ بِضَرُورَتِهِ، حَتَّى لَا يُعَدُّ سَارِقًا فَتُقْطَعَ يَدُهُ، رَأَيْتُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ أَيِّ ذَلِكَ وَجَدَ مَا يَرُدُّ جُوعَهُ، وَلَا يَحْمِلُ مِنْهُ شَيْئًا، وَذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ الْمَيْتَةَ، وَإِنْ هُوَ خَشِيَ أَنْ لَا يُصَدِّقُوهُ، وَأَنْ يُعَدَّ سَارِقًا بِمَا أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّ أَكْلَ الْمَيْتَةِ خَيْرٌ لَهُ عِنْدِي، وَلَهُ فِي أَكْلِ الْمَيْتَةِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ سَعَةٌ، مَعَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْدُوَ عَادٍ مِمَّنْ لَمْ يُضْطَرَّ إِلَى الْمَيْتَةِ يُرِيدُ اسْتِجَازَةَ أَخْذِ أَمْوَالِ النَّاسِ وَزُرُوعِهِمْ وَثِمَارِهِمْ بِذَلِكَ بِدُونِ اضْطِرَارٍسوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ مضطر مردار کو کھائے یا کسی شخص کے باغ کے میوے یا کھیت یا بکری کو کھا جائے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اگر باغ یا کھیت یا بکری کا مالک مضطر کو سچا سمجھے، اور چور سمجھ کے اس کا ہاتھ نہ کٹوائے، تو ان چیزوں کا کھانا مردار سے بہتر ہے۔ اگر مضطر کو خوف ہو کہ ان چیزوں کا مالک اس کو سچا نہ سمجھے گا، بلکہ چور کا خیال کر کے اس کا ہاتھ کٹوائے گا، تو مردار کھانا بہتر ہے۔ اور اگر پرایا مال کھا جانا ہر حال میں مردار سے بہتر ہوتا تو بدمعاش لوگ پرائے مال کو اسی بہانے چکھ جائیں گے
قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ مجھے پسند ہے جو میں نے سنا۔