موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصيد— کتاب: شکار کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي صَيْدِ الْبَحْرِ باب: دریا کے شکار کے بیان میں
حدیث نمبر: 1045
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا، أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا، فَقَالَ : " لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ "، قَالَ سَعْدٌ : ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ علامہ وحید الزماں
حضرت سعد الجاری مولیٰ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پوچھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے: جو مچھلیاں ان کو مچھلیاں مار ڈالیں یا سردی سے مر جائیں؟ انہوں نے کہا: ان کا کھانا درست ہے، پھر میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔