موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحوں کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الذَّكَاةِ فِي حَالِ الضَّرُورَةِ باب: ذکاةِ ضروری کا بیان
حدیث نمبر: 1031
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهَا بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا، فَذَكَّتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَا فَكُلُوهَا "علامہ وحید الزماں
حضرت معاذ بن سعد سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی سلع میں، (ایک پہاڑ ہے مدینہ کے پاس) ایک بکری اس سے مرنے لگی تو اس نے پتھر سے ذبح کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ حرج نہیں، کھاؤ اس کو۔“