موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحوں کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الذَّكَاةِ فِي حَالِ الضَّرُورَةِ باب: ذکاةِ ضروری کا بیان
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً لَهُ بِأُحُدٍ فَأَصَابَهَا الْمَوْتُ، فَذَكَّاهَا بِشِظَاظٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ فَكُلُوهَا " علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری اپنی اونٹنی چرا رہا تھا احد میں، یکایک وہ مرنے لگی تو اس نے ایک دھاری دار لکڑی سے ذبح کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ اندیشہ نہیں، کھاؤ اس کو۔“