موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ وَاجِبِ الْغُسْلِ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ باب: دخول سے غسل واجب ہونے کا بیان اگرچہ انزال نہ ہو
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ أَتَى عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا : لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ اخْتِلَافُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ ، إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ أَسْتَقْبِلَكِ بِهِ ، فَقَالَتْ : " مَا هُوَ مَا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ ؟ فَسَلْنِي عَنْهُ " ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُصِيبُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ وَلَا يُنْزِلُ ؟ فَقَالَتْ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ : لَا أَسْأَلُ عَنْ هَذَا أَحَدًا بَعْدَكِ أَبَدًاسعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ آئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور کہا ان سے کہ بہت سخت گزرا مجھ کو اختلاف صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مسئلے میں، شرماتا ہوں کہ ذکر کروں اس کو تمہارے سامنے، تو فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کیا ہے وہ مسئلہ جو تو اپنی ماں سے پوچھ لے، مجھ سے۔ کہا سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے: کوئی جماع کرے اپنی بیوی سے، پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیاحکم ہے؟ کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب تجاوز کر جائے ختنہ ختنے سے، واجب ہوا غسل۔ کہا سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ اب نہ پوچھوں گا اس مسئلے کو کسی سے بعد تمہارے۔