موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحوں کے بیان میں
بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الذَّبِيحَةِ باب: ذبیحہ پر بسم اللہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ، وَلَا نَدْرِي هَلْ سَمَّوْا اللَّهَ عَلَيْهَا أَمْ لَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهَا ثُمَّ كُلُوهَا " .¤ قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِعلامہ وحید الزماں
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ بدّو لوگ گوشت لے کر ہمارے پاس آتے اور ہم کو نہیں معلوم کہ انہوں نے بسم اللہ کہی تھی یا نہیں، ذبح کے وقت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بسم اللہ کہہ کے اس کو کھا لو۔“
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث ابتدائے اسلام کی ہے۔