حدیث نمبر: 1022
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ : أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَهُمْ إِذَا أَعْطَوْا فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، أَعْطَوْا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِالْمُدِّ الْأَصْغَرِ، وَرَأَوْا ذَلِكَ مُجْزِئًا عَنْهُمْ. ¤
علامہ وحید الزماں

سلیمان بن یسار نے کہا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جب کفارہ قسم کا دیتے تھے تو ہر ایک مسکین کو ایک مد گہیوں کا چھوٹے مد سے دیا کرتے تھے، اور اس کو کافی سمجھتے تھے۔

قَالَ مَالِكٌ : أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الَّذِي يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ بِالْكِسْوَةِ. أَنَّهُ إِنْ كَسَا الرِّجَالَ، كَسَاهُمْ ثَوْبًا ثَوْبًا. وَإِنْ كَسَا النِّسَاءَ كَسَاهُنَّ ثَوْبَيْنِ ثَوْبَيْنِ. دِرْعًا وَخِمَارًا. وَذَلِكَ أَدْنَى مَا يُجْزِئُ كُلًّا فِي صَلَاتِهِ.
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ للہ نے فرمایا: جو شخص قسم کے کفارے میں مسکینوں کو کپڑا پہنائے، اگر مسکین مردوں کو دے تو ایک ایک کپڑا دینا کافی ہے، اور اگر عورتوں کو دے تو دو کپڑے دے، ایک کرتا اور ایک سربند جس کو خمار کہتے ہیں، کیونکہ اس قدر سے کم میں نماز درست نہیں ہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1022
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4545، والنسائی فى «الكبريٰ» برقم: 19976، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12207، فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 12»