موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النذور والأيمان— کتاب: نذروں کے بیان میں
بَابُ مَا لَا تَجِبُ فِيهِ الْكَفَّارَةُ مِنَ الْأَيْمَانِ باب: جن قسموں میں کفارہ واجب نہیں ہوتا ان کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : وَاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ لَمْ يَفْعَلِ الَّذِي حَلَفَ عَلَيْهِ لَمْ يَحْنَثْ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو شخص قسم کھائے اللہ کی پھر کہے ان شاء اللہ، پھر نہ کرے اس کام کو جس پر قسم کھائی تھی تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔
قَالَ مَالِك : أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الثُّنْيَا، أَنَّهَا لِصَاحِبِهَا مَا لَمْ يَقْطَعْ كَلَامَهُ وَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ نَسَقًا يَتْبَعُ بَعْضُهُ بَعْضًا قَبْلَ أَنْ يَسْكُتَ، فَإِذَا سَكَتَ، وَقَطَعَ كَلَامَهُ، فَلَا ثُنْيَا لَهُ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ان شاء اللہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ قسم کے ساتھ کہے اور سلسلہ کلام کا باقی ہو، اگر قسم کھا کے چپ رہا ہو پھر ان شاء اللہ کہا تو کچھ مفید نہ ہو گا۔
قَالَ يَحْيَى : وَقَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقُولُ : كَفَرَ بِاللَّهِ أَوْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ، ثُمَّ يَحْنَثُ : إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ، وَلَيْسَ بِكَافِرٍ وَلَا مُشْرِكٍ حَتَّى يَكُونَ قَلْبُهُ مُضْمِرًا عَلَى الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ، وَلَا يَعُدْ إِلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَبِئْسَ مَا صَنَعَکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کسی شخص نے کہا: اگر میں یہ کام کروں تو میں کافر ہوں یا مشرک ہوں، پھر وہ کام کرے تو اس پر کفارہ نہ ہو گا، اور نہ کافر اور مشرک ہو جائے گا جب تک دل میں اس کے شرک اور کفر کا عقیدہ نہ ہو، مگر گنہگار ہو گا، توبہ کرے پھر ایسی بات نہ کہے۔