حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : وَاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ لَمْ يَفْعَلِ الَّذِي حَلَفَ عَلَيْهِ لَمْ يَحْنَثْ " .
علامہ وحید الزماں

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو شخص قسم کھائے اللہ کی پھر کہے ان شاء اللہ، پھر نہ کرے اس کام کو جس پر قسم کھائی تھی تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔

قَالَ مَالِك : أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الثُّنْيَا، أَنَّهَا لِصَاحِبِهَا مَا لَمْ يَقْطَعْ كَلَامَهُ وَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ نَسَقًا يَتْبَعُ بَعْضُهُ بَعْضًا قَبْلَ أَنْ يَسْكُتَ، فَإِذَا سَكَتَ، وَقَطَعَ كَلَامَهُ، فَلَا ثُنْيَا لَهُ .
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ان شاء اللہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ قسم کے ساتھ کہے اور سلسلہ کلام کا باقی ہو، اگر قسم کھا کے چپ رہا ہو پھر ان شاء اللہ کہا تو کچھ مفید نہ ہو گا۔

قَالَ يَحْيَى : وَقَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقُولُ : كَفَرَ بِاللَّهِ أَوْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ، ثُمَّ يَحْنَثُ : إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ، وَلَيْسَ بِكَافِرٍ وَلَا مُشْرِكٍ حَتَّى يَكُونَ قَلْبُهُ مُضْمِرًا عَلَى الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ، وَلَا يَعُدْ إِلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَبِئْسَ مَا صَنَعَ
علامہ وحید الزماں

کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کسی شخص نے کہا: اگر میں یہ کام کروں تو میں کافر ہوں یا مشرک ہوں، پھر وہ کام کرے تو اس پر کفارہ نہ ہو گا، اور نہ کافر اور مشرک ہو جائے گا جب تک دل میں اس کے شرک اور کفر کا عقیدہ نہ ہو، مگر گنہگار ہو گا، توبہ کرے پھر ایسی بات نہ کہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النذور والأيمان / حدیث: 1019
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3262، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1530، والنسائي : 3824، وابن ماجه : 2105، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4510، والدارمي فى «سننه» برقم: 2342، فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 10»