موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النذور والأيمان— کتاب: نذروں کے بیان میں
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النُّذُورِ فِي مَعْصِيَةِ اللّٰهِ باب: جو نذریں درست نہیں جن میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے ان کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَى صَاحِبِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَذَا ؟ " فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ وَلَا يَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَلَا يَجْلِسَ وَيَصُومَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ " .حضرت حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث پوچھا! لوگوں نے کہا: اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا، نہ سایہ لوں گا، نہ بیٹھوں گا، اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے۔“
قَالَ مَالِك : وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِكَفَّارَةٍ، وَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتِمَّ مَا كَانَ لِلَّهِ طَاعَةً، وَيَتْرُكَ مَا كَانَ لِلَّهِ مَعْصِيَةًامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارہ دینے کا حکم کیا ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عبادت ہے اس کو پورا کرے اور جو بُرا ہے اس کو ترک کرے۔