موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النذور والأيمان— کتاب: نذروں کے بیان میں
بَابُ مَا يَجِبُ مِنَ النُّذُورِ فِي الْمَشْيِ باب: پیدل چلنے کی نذروں کا بیان
حدیث نمبر: 1010
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا كَانَتْ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا مَشْيًا إِلَى مَسْجِدِ قُبَاءٍ، فَمَاتَتْ، وَلَمْ تَقْضِهِ فَأَفْتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ابْنَتَهَا، أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا " .علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اپنی پھوپھی سے، انہوں نے بیان کیا کہ ان کی دادی نے نذر کی مسجدِ قباء میں پیدل جانے کی، پھر مر گئیں اور اس نذر کو ادا نہیں کیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی بیٹی کو حکم کیا کہ وہ ان کی طرف سے اس نذر کو ادا کریں۔
قَالَ يَحْيَى : وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : لَا يَمْشِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی کسی کی طرف سے پیدل چلنے کی نذر ادا نہ کرے۔