موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ وَالْمُسَابَقَةِ بَيْنَهَا ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْغَزْوِ باب: گھوڑوں کا اور گھڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1003
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : " لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبْقَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ " علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: گھڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے، جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے، اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے، اور جب پیچھے رہے کچھ نہ دے۔