موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب وقوت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ باب: نماز کے وقتوں کا بیان
حدیث نمبر: 10
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، پھر ہم میں کوئی قبا کو جاتا تھا پھر وہاں کے لوگوں کو ملتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، پھر ہم میں کوئی قبا کو جاتا تھا پھر وہاں کے لوگوں کو ملتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔ [موطا امام مالك: 10]
فائدہ:
قبا مدینہ منورہ کے جنوب میں تین میل کی مسافت پر ہے، بعض روایات میں چار میل دور جانے کا بھی تذکرہ ہے۔
[بخاري: 550، 7329]
قبا مدینہ منورہ کے جنوب میں تین میل کی مسافت پر ہے، بعض روایات میں چار میل دور جانے کا بھی تذکرہ ہے۔
[بخاري: 550، 7329]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 10 سے ماخوذ ہے۔