حدیث نمبر: 10
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ "
علامہ وحید الزماں

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، پھر ہم میں کوئی قبا کو جاتا تھا پھر وہاں کے لوگوں کو ملتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب وقوت الصلاة / حدیث: 10
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 621، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1518، 1519، 1520، 1522، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 505، 506، 507، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1507، وأبو داود فى «سننه» برقم: 404، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1244، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 682، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2106، 2107، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12525، 12839، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3593، 3604، 3605، شركة الحروف نمبر: 10، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 11»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، پھر ہم میں کوئی قبا کو جاتا تھا پھر وہاں کے لوگوں کو ملتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔ [موطا امام مالك: 10]
فائدہ:

قبا مدینہ منورہ کے جنوب میں تین میل کی مسافت پر ہے، بعض روایات میں چار میل دور جانے کا بھی تذکرہ ہے۔

[بخاري: 550، 7329]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 10 سے ماخوذ ہے۔