حدیث نمبر: 111
277- مالك عن عبد الله بن دينار أن عبد الله بن عمر قال: بينما الناس بقباء فى صلاة الصبح، إذ جاءهم آت، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أنزل عليه الليلة قرآن، وقد أمر أن يستقبل الكعبة فاستقبلوها، وكانت وجوههم إلى الشام، فاستداروا إلى الكعبة.
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی نے آ کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات قرآن نازل ہوا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ (نماز میں) کعبہ کی طرف رخ کرو ۔ وہ لوگ شام (قبلہ اولیٰ) کی طرف نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے نماز میں ہی کعبہ کی طرف رخ پھیر لئے۔
حدیث نمبر: 112
278- وبه: أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على راحلته فى السفر حيثما توجهت به، قال عبد الله بن دينار: وكان عبد الله بن عمر يفعل ذلك.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر ، جس طرف بھی اس کا رخ ہوتا تھا (نفل) نماز پڑھتے تھے ۔ عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔