کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: اسلام دین فطرت ہے
حدیث نمبر: 22
338- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”كل مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهودانه وينصرانه كما تناتج الإبل من بهمية جمعاء، هل تحس من جدعاء؟“ فقالوا: يا رسول الله، أفرأيت من يموت وهو صغير؟، قال: ”الله أعلم بما كانوا عاملين“ .
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی (وغیرہ) بنا دیتے ہیں جیسا کہ اونٹوں سے صحیح سالم بچے پیدا ہوتے ہیں ، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو ؟“ تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی بچہ بچپن میں ہی مر جائے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ جانتا ہے کہ وہ (بچے) کیا عمل کرنے والے تھے ۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 22
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «338- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 241/1 ح 572 ، ك 16 ب 16 ح 52) التمهيد 57/18 ، الاستذكار : 526 و أخرجه أبوداود (4714) من حديث مالك به ورواه مسلم (2659) من حديث ابي الزناد به مختصراً.»