حدیث نمبر: 4
361- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”تحاج آدم وموسى فحج آدم موسى، فقال له موسى: أنت آدم الذى أغويت الناس وأخرجتهم من الجنة؟ فقال له آدم: أنت موسى الذى أعطاك الله علم كل شيء واصطفاك على الناس برسالاته؟ قال: نعم، قال: أفتلومني على أمر قد قدر على قبل أن أخلق“ .
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان مباحثہ ہوا تو موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا: آپ وہ آدم ہیں جنہوں نے لوگوں کو جنت سے نکال دیا اور پھسلا دیا ؟ تو آدم علیہ السلام نے انہیں جواب دیا : آپ وہ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور اپنی رسالت کے ساتھ لوگوں میں سے چنا ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ، آدم علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے میری تقدیر میں لکھ دی تھی ۔ “
حدیث نمبر: 5
187- مالك عن زياد بن سعد عن عمر بن مسلم عن طاووس أنه قال: أدركت ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولون: كل شيء بقدر. قال: وسمعت عبد الله بن عمر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل شيء بقدر حتى العجز والكيس.
حافظ زبیر علی زئی
طاؤس (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک جماعت کو یہ کہتے ہوئے پایا ہے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے ۔ طاؤس نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر شے تقدیر سے ہے حتیٰ کہ عاجزی اور عقل مندی بھی تقدیر سے ہے ۔ “
حدیث نمبر: 6
362- وبه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لا تسأل المرأة طلاق أختها لتستفرغ صحفتها ولتنكح، فإنما لها ما قدر لها.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ (اپنے لئے) خالی کرائے اور خود نکا ح کر لے ، پس اسے وہی ملے گا جو اس کے لئے مقدر ہے ۔ “