حدیث نمبر: 657
457- وبه: أنها قالت: كان أحب العمل إلى رسول الله الذى يدوم عليه صاحبه.حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جس پر عمل کرنے والا مداومت (ہمیشگی) کرے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´پسندیدہ عمل`
«. . . 457- وبه: أنها قالت: كان أحب العمل إلى رسول الله الذى يدوم عليه صاحبه. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جس پر عمل کرنے والا مداومت (ہمیشگی) کرے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 657]
«. . . 457- وبه: أنها قالت: كان أحب العمل إلى رسول الله الذى يدوم عليه صاحبه. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جس پر عمل کرنے والا مداومت (ہمیشگی) کرے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 657]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6462، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ کوشش کر کے نیکی کے ہر کام میں ہمیشگی اور دوام اختیار کرنا چاہئے۔
➋ بعض اوقات کسی مباح و مستحب کام کو چھوڑ دینا بھی جائز ہے۔ دیکھئے: [الموطأ حديث: 424]
[وأخرجه البخاري 6462، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ کوشش کر کے نیکی کے ہر کام میں ہمیشگی اور دوام اختیار کرنا چاہئے۔
➋ بعض اوقات کسی مباح و مستحب کام کو چھوڑ دینا بھی جائز ہے۔ دیکھئے: [الموطأ حديث: 424]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 457 سے ماخوذ ہے۔