حدیث نمبر: 636
511- مالك عن يحيى بن سعيد قال: سمعت أبا الحباب سعيد بن يسار يقول: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون: يثرب، وهى المدينة، تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد.“
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے جو دوسری بستیوں کو کھاتی (یعنی ان پر غالب آتی) ہے ۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور یہ مدینہ ہے (برے) لوگوں کو اس طرح باہر نکال دیتی ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ وغیرہ باہر نکال دیتی ہے ۔“

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 636
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «511- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 887/2 ح 1705 ، ك 45 ب 2 ح 5) التمهيد 170/23 ، الاستذكار : 1635 ، و أخرجه البخاري (1871) ومسلم (1382) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´مدینے کی فضیلت`
«. . . 511- مالك عن يحيى بن سعيد قال: سمعت أبا الحباب سعيد بن يسار يقول: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون: يثرب، وهى المدينة، تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد. . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے جو دوسری بستیوں کو کھاتی (یعنی ان پر غالب آتی) ہے۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور یہ مدینہ ہے (برے) لوگوں کو اس طرح باہر نکال دیتی ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ وغیرہ باہر نکال دیتی ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 636]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1871، ومسلم 1382، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مدینہ طیبہ فضیلت والی بستی ہے لہٰذا جس آدمی کے پاس استطاعت ہو تو اس کے لئے مدینہ میں رہائش اختیار کرنا بہتر ہے۔
➋ نیز دیکھئے [حديث:الموطأ 85، 406، مسلم 1377]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 511 سے ماخوذ ہے۔