479- مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن سفيان بن أبى زهير قال: ”سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تفتح اليمن فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون وتفتح العراق فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، وتفتح الشام فيأتي قوم يبسون فيحتملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون.“سیدنا سفیان بن زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : یمن فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی (اور مدینے سے نکلے گی) وہ اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے ۔ عراق فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی جو اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو لے کر سفر کریں گے حالانکہ ان کے لئے مدینہ بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے ۔ اور شام فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی جو اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو لے کر سفر کریں گے اور ان کے لئے مدینہ بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے ۔ اور شام فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی جو اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو لے کر سفر کریں گے اور ان کے لئے مدینہ بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . 479- مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن سفيان بن أبى زهير قال: ”سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تفتح اليمن فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون وتفتح العراق فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، وتفتح الشام فيأتي قوم يبسون فيحتملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون.“ . . .»
”. . . سیدنا سفیان بن زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یمن فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی (اور مدینے سے نکلے گی) وہ اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے۔ عراق فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی جو اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو لے کر سفر کریں گے حالانکہ ان کے لئے مدینہ بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے۔ اور شام فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی جو اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو لے کر سفر کریں گے اور ان کے لئے مدینہ بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے۔ اور شام فتح ہو گا پھر ایک قوم آئے گی جو اپنے گھر والوں اور ماتحت لوگوں کو لے کر سفر کریں گے اور ان کے لئے مدینہ بہتر ہو گا اگر وہ جانتے ہوتے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 635]
[وأخرجه البخاري 1875، من حديث مالك ومسلم 1388، من حديث هشام بن عروة به]
تفقه:
➊ مدینہ طیبہ کی فضیلت اور اہمیت واضح ہے۔
➋ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں رہائش سب علاقوں میں رہائش سے بہتر ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [التمهيد 22 / 224]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت بالکل حق اور سچ ہے۔
➍ حافظ ابن عبدالبر نے فرمایا کہ یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ہے کیونکہ اس میں غیب کی خبر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے سوائے اس کے جس کی اطلاع اللہ نے آپ کو بذریعہ وحی دی۔ [التمهيد 22 / 224]
➎ نیز دیکھئے: [الموطأ ح85، 406، 511]، اور [الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 2 / 884 890]