موطا امام مالك رواية ابن القاسم
— فضائل و سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 623
43- وبه: أنها قالت: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم فى أمرين إلا أخذ أيسرهما ما لم يكن إثما. فإن كان إثما كان أبعد الناس منه. وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه إلا أن تنتهك حرمة هي لله فينتقم لله بها.حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند (کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے لئے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا الا یہ کہ اللہ کی مقرر کردہ حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو اس صورت میں آپ اللہ کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´دین و دنیا میں سختی سے اجتناب کر کے آسانی والا راستہ اختیار کرنا`
«. . . انها قالت: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم فى امرين إلا اخذ ايسرهما ما لم يكن إثما. فإن كان إثما كان ابعد الناس منه. وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه إلا ان تنتهك حرمة هي لله فينتقم لله بها . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے لئے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا الا یہ کہ اللہ کی مقرر کردہ حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو اس صورت میں آپ اللہ کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 623]
«. . . انها قالت: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم فى امرين إلا اخذ ايسرهما ما لم يكن إثما. فإن كان إثما كان ابعد الناس منه. وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه إلا ان تنتهك حرمة هي لله فينتقم لله بها . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے لئے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا الا یہ کہ اللہ کی مقرر کردہ حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو اس صورت میں آپ اللہ کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 623]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 3560، ومسلم 2327/77، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دین و دنیا میں سختی سے اجتناب کر کے آسانی والا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
➋ سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے (اپنے شاگردوں سے) پوچھا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو بہت سی نمازوں اور صدقے سے بہتر ہے؟ شاگردوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دینا اور بغض و عداوت سے بچو کیونکہ یہ (نیکیوں کو) مونڈ (کر ختم کر) دیتا ہے۔ [موطأ الامام مالك، رواية يحييٰ 904/2 ح 1741، وسنده صحيح]
● یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آدمی حسن اخلاق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بر روزہ رکھنے والے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔“ [موطأ الامام مالك، رواية يحييٰ 904/2 ح 1740، وسنده صحيح]
➌ دین اسلام کے لئے انتقام اور بدلہ لینا صحیح ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک بدعتی (تقدیر کے منکر) نے سلام بھیجا تھا مگر انہوں سلام کا جواب نہیں دیا اور بدعتیوں سے برأت کا اعلان کیا۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 2152 وقال الترمذي: ”هذا حديث حسن صحيح غريب“]
[وأخرجه البخاري 3560، ومسلم 2327/77، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دین و دنیا میں سختی سے اجتناب کر کے آسانی والا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
➋ سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے (اپنے شاگردوں سے) پوچھا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو بہت سی نمازوں اور صدقے سے بہتر ہے؟ شاگردوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دینا اور بغض و عداوت سے بچو کیونکہ یہ (نیکیوں کو) مونڈ (کر ختم کر) دیتا ہے۔ [موطأ الامام مالك، رواية يحييٰ 904/2 ح 1741، وسنده صحيح]
● یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آدمی حسن اخلاق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بر روزہ رکھنے والے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔“ [موطأ الامام مالك، رواية يحييٰ 904/2 ح 1740، وسنده صحيح]
➌ دین اسلام کے لئے انتقام اور بدلہ لینا صحیح ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک بدعتی (تقدیر کے منکر) نے سلام بھیجا تھا مگر انہوں سلام کا جواب نہیں دیا اور بدعتیوں سے برأت کا اعلان کیا۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 2152 وقال الترمذي: ”هذا حديث حسن صحيح غريب“]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 43 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6786 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6786. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار کرتے، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ اس سے بہت دور رہتے اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے کبھی اپنے ذاتی معاملے میں کسی سے بدلہ نہ لیا، البتہ (جب) اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو آپ اللہ کے لیے ضرور انتقام لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6786]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں مذکور اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے دو امور میں اختیار نہیں دیتا جن میں سے ایک گناہ ہو اور نہ اخروی امور ہی میں اختیار دیا جاتا تھا کیونکہ اخروی امور اگر مشکل ہوں تو انھیں کرنے میں ثواب زیادہ ہوتا ہے، اگر دینی امور میں اختیار دیا جاتا جن میں ایک کا انجام گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے کو اختیار کرتے جیسا کہ مجاہدہ اور میانہ روی میں اختیار دیا جاتا تو میانہ روی کو پسند کرتے کیونکہ وہ مجاہدہ جو ہلاکت تک پہنچا دے وہ گناہ ہے۔
(2)
اس حدیث سے حدود اللہ کی اہمیت کا پتا چلتا ہے کہ ان کے پامال ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور انتقام لیتے، حالانکہ ذاتی معاملات میں انتقام لینا آپ کا شیوا نہ تھا۔
بہرحال حدود اللہ کی پامالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برداشت نہ تھی۔
واللہ أعلم
(1)
حدیث میں مذکور اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے دو امور میں اختیار نہیں دیتا جن میں سے ایک گناہ ہو اور نہ اخروی امور ہی میں اختیار دیا جاتا تھا کیونکہ اخروی امور اگر مشکل ہوں تو انھیں کرنے میں ثواب زیادہ ہوتا ہے، اگر دینی امور میں اختیار دیا جاتا جن میں ایک کا انجام گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے کو اختیار کرتے جیسا کہ مجاہدہ اور میانہ روی میں اختیار دیا جاتا تو میانہ روی کو پسند کرتے کیونکہ وہ مجاہدہ جو ہلاکت تک پہنچا دے وہ گناہ ہے۔
(2)
اس حدیث سے حدود اللہ کی اہمیت کا پتا چلتا ہے کہ ان کے پامال ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور انتقام لیتے، حالانکہ ذاتی معاملات میں انتقام لینا آپ کا شیوا نہ تھا۔
بہرحال حدود اللہ کی پامالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برداشت نہ تھی۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6786 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6126 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6126. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ان دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے بشرطیکہ گناہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب لوگوں کی نسبت زیادہ دور رہنے والے ہوتے، نیز رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کریمہ کے لیے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا البتہ اگر اللہ کی حرمت کو پامال کیا جاتا تو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6126]
حدیث حاشیہ: بظاہر اس حدیث میں اشکال ہے کیونکہ جو کام گناہ ہوتا ہے اس کے لئے آپ کو کیسے اختیار دیا جاتا، شاید یہ مراد ہو کہ کافروں کی طرف سے ایسا اختیار دیا جاتا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6126 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6126 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6126. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ان دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے بشرطیکہ گناہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب لوگوں کی نسبت زیادہ دور رہنے والے ہوتے، نیز رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کریمہ کے لیے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا البتہ اگر اللہ کی حرمت کو پامال کیا جاتا تو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6126]
حدیث حاشیہ:
گناہوں کے کاموں میں اختیار دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کی طرف سے اگر کسی گناہ کے کام کا اختیار دیا جاتا تو آپ اس سے دور رہتے اور اللہ تعالیٰ یا مسلمانوں کی طرف سے اختیار دیے جانے کا مطلب ہے کہ وہ آسانی گناہ تک پہنچانے والی نہ ہوتی، مثلاً! عبادت میں مشقت اور میانہ روی کے درمیان اختیار دیا جائے اور اگر وہ مشقت ہلاکت تک پہنچانے والی ہوتی تو آپ میانہ روی کو پسند کرتے۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر آسانی اور تخفیف کو پسند فرماتے تھے۔
گناہوں کے کاموں میں اختیار دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کی طرف سے اگر کسی گناہ کے کام کا اختیار دیا جاتا تو آپ اس سے دور رہتے اور اللہ تعالیٰ یا مسلمانوں کی طرف سے اختیار دیے جانے کا مطلب ہے کہ وہ آسانی گناہ تک پہنچانے والی نہ ہوتی، مثلاً! عبادت میں مشقت اور میانہ روی کے درمیان اختیار دیا جائے اور اگر وہ مشقت ہلاکت تک پہنچانے والی ہوتی تو آپ میانہ روی کو پسند کرتے۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر آسانی اور تخفیف کو پسند فرماتے تھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6126 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6853 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6853. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ذاتی معاملے میں کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ ہاں، جب اللہ کی قائم کردہ حدود کو پامال کیا جاتا تو پھر اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6853]
حدیث حاشیہ: یہ عروہ بن زبیر بن عوام ہیں۔
قریشی اسدی سنہ220ھ میں پیدا ہوئے۔
یہ مدینہ کے سات فقہاء میں شامل ہیں۔
ابن شہاب نے کہا کہ عروہ علم کے ایسے دریا ہیں جو کم ہی نہیں ہوتا۔
قریشی اسدی سنہ220ھ میں پیدا ہوئے۔
یہ مدینہ کے سات فقہاء میں شامل ہیں۔
ابن شہاب نے کہا کہ عروہ علم کے ایسے دریا ہیں جو کم ہی نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6853 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6853 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6853. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ذاتی معاملے میں کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ ہاں، جب اللہ کی قائم کردہ حدود کو پامال کیا جاتا تو پھر اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6853]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ کے ارتکاب پر مارتے تھے، اپنے ذاتی معاملات میں آپ نے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ درگزر اور معافی سے کام لیا ہے، البتہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی حدیں توڑتا آپ اسے ضرور سزا دیتے تھے جیسا کہ غزوۂ تبوک میں جان بوجھ کر پیچھے رہنے والے تین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سوشل بائیکاٹ کیا تھا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت کے معاملے میں قید کیا۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3630) (2)
بہرحال تعزیروتنبیہ کا معاملہ وقت، حالات اور افراد کے پیش نظر کم اور زیادہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے متعلق کوئی پیمانہ مقرر نہیں ہے۔
واللہ أعلم
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ کے ارتکاب پر مارتے تھے، اپنے ذاتی معاملات میں آپ نے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ درگزر اور معافی سے کام لیا ہے، البتہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی حدیں توڑتا آپ اسے ضرور سزا دیتے تھے جیسا کہ غزوۂ تبوک میں جان بوجھ کر پیچھے رہنے والے تین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سوشل بائیکاٹ کیا تھا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت کے معاملے میں قید کیا۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3630) (2)
بہرحال تعزیروتنبیہ کا معاملہ وقت، حالات اور افراد کے پیش نظر کم اور زیادہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے متعلق کوئی پیمانہ مقرر نہیں ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6853 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3560 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3560. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دوباتوں کا اختیار دیاجاتا تو آپ اس کو اختیارکرتے جو آسان ہوتی بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتی لیکن اگر وہ بات گناہ ہوتی تو آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ ہاں، اگراللہ کی حرمت پامال ہوتی تو آپ اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3560]
حدیث حاشیہ: عبداللہ بن حنظل یا عقبہ بن ابی معیط یا ابورافع یہودی یا کعب بن اشرف کو جو آپ نے قتل کروایا وہ بھی اپنی ذات کے لیے نہ تھا بلکہ ان لوگوں نے اللہ کے دین میں خلل ڈالنا، لوگوں کو بہکانا اور فتنہ وفساد بھڑکانا اپنا رات دن کا شغل بنا لیا تھا۔
اس لیے قیام امن کے واسطے ان فساد پسندوں کو ختم کرایا گیا۔
ورنہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر آپ اپنی ذات کے لیے بدلہ لیتے تو اس یہودن کو ضرور قتل کراتے جس نے دعوت دے کر بکری کے گوشت میں زہر ملا کے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا، یا اس منافق کو قتل کراتے جس نے مال غنیمت کی تقسیم پر آپ کی دیانت پر شبہ کیا تھا مگر ان سب کو معاف کردیا گیا۔
جان سے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بے دردی سے قتل کرنے والا حبشی بن حرب جب آپ کے سامنے آیا توآپ کو سخت تکلیف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے معافی دی بلکہ اس کا اسلام بھی قبول کیا اور فتح مکہ کے دن تو آپ نے جو کچھ کیا اس پر آج تک دنیا حیران ہے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
اس لیے قیام امن کے واسطے ان فساد پسندوں کو ختم کرایا گیا۔
ورنہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر آپ اپنی ذات کے لیے بدلہ لیتے تو اس یہودن کو ضرور قتل کراتے جس نے دعوت دے کر بکری کے گوشت میں زہر ملا کے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا، یا اس منافق کو قتل کراتے جس نے مال غنیمت کی تقسیم پر آپ کی دیانت پر شبہ کیا تھا مگر ان سب کو معاف کردیا گیا۔
جان سے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بے دردی سے قتل کرنے والا حبشی بن حرب جب آپ کے سامنے آیا توآپ کو سخت تکلیف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے معافی دی بلکہ اس کا اسلام بھی قبول کیا اور فتح مکہ کے دن تو آپ نے جو کچھ کیا اس پر آج تک دنیا حیران ہے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3560 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3560 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3560. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دوباتوں کا اختیار دیاجاتا تو آپ اس کو اختیارکرتے جو آسان ہوتی بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتی لیکن اگر وہ بات گناہ ہوتی تو آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ ہاں، اگراللہ کی حرمت پامال ہوتی تو آپ اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3560]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوکاموں سے ایک کو اختیار کرنے کی دوقسمیں ہیں: ایک یہ کہ مذکورہ اختیار کفار کی طرف سے دیاجاتا،اس اختیار میں کسی گناہ کا اختیار بھی ہوسکتاہے،ایسی صورت میں آپ گناہ کا کام نہ کرتے مثلاً: اللہ کی نافرمانی یا قطع رحمی کی کسی صورت میں اختیار نہ کرتے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ اختیار اللہ یا اہل ایمان کی طرف سے ہوتا،مثلاً: عبادت میں مبالغہ اور میانہ روی کا اختیار دیا جاتا تو آپ میانہ روی کو اختیارکرتے کیونکہ جو مجاہدہ یا مبالغہ انسان کو ہلاکت تک پہنچادے یا دوسروں کی تکلیف کا باعث بنے توآپ اسے اختیار نہ کرتے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ آسان کام کو اختیار کرنا چاہیے۔
3۔
حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیں اور اللہ کے حق کو بے کار نہ چھوڑیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن خطل اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کردیا تھا،یہ ذاتی انتقام کانتیجہ نہ تھا بلکہ دینی حرمات کی پامالی ان کے قتل کی محرک تھی۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوکاموں سے ایک کو اختیار کرنے کی دوقسمیں ہیں: ایک یہ کہ مذکورہ اختیار کفار کی طرف سے دیاجاتا،اس اختیار میں کسی گناہ کا اختیار بھی ہوسکتاہے،ایسی صورت میں آپ گناہ کا کام نہ کرتے مثلاً: اللہ کی نافرمانی یا قطع رحمی کی کسی صورت میں اختیار نہ کرتے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ اختیار اللہ یا اہل ایمان کی طرف سے ہوتا،مثلاً: عبادت میں مبالغہ اور میانہ روی کا اختیار دیا جاتا تو آپ میانہ روی کو اختیارکرتے کیونکہ جو مجاہدہ یا مبالغہ انسان کو ہلاکت تک پہنچادے یا دوسروں کی تکلیف کا باعث بنے توآپ اسے اختیار نہ کرتے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ آسان کام کو اختیار کرنا چاہیے۔
3۔
حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیں اور اللہ کے حق کو بے کار نہ چھوڑیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن خطل اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کردیا تھا،یہ ذاتی انتقام کانتیجہ نہ تھا بلکہ دینی حرمات کی پامالی ان کے قتل کی محرک تھی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3560 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2327 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کے انتخاب اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار کیا۔ بشرطیکہ گناہ کا باعث نہ ہوتا، اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کی خاطر بدلہ نہیں لیا۔ الا یہ کہ کوئی اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیز کا مرتکب ہوتا (اس کی حرمت کوپامال کرتا۔)... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6045]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر دو کام ایسے ہوں کہ شرعی رو سے دونوں کے کرنے کی گنجائش اور سہولت موجود ہو تو پھر اپنی عزیمت اور قوت پر اعتماد کرتے ہوئے مشکل کام کو اختیار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ آسان اور سہل کام کو اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ اسلام سہولت اور آسانی پر مبنی ضابطہ حیات ہے، لیکن اگر ان میں سے ایک کام گناہ کا پیش خیمہ بن سکتا ہو اور انسان سہولت پسندی اور سہل نگاری کی بنا پر کسی فتنہ میں مبتلا ہو سکتا ہو تو پھر اس کام سے بچنا چاہیے اور اختلافی مسائل میں، دلیل و برہان کو نظر انداز کر کے محض سہل اور آسان کو اپنانا درست نہیں ہے، ہاں دلائل کی یکسانیت کی صورت میں یا محض اجتہادی مسائل میں امت کی سہولت اور آسانی کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور آپ شخصی اور ذاتی امور میں چشم پوشی سے کام لیتے، جیسا کہ آپ نے پتھر کھا کر دعا فرمائی، اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، وہ میرے مقام و مرتبہ اور میری دعوت سے آگاہ نہیں ہے۔
اس طرح گستاخانہ رویہ اختیار کرنے والوں کو معاف فرمایا، بعض دفعہ اللہ کی ناراضی سے بچنے اور دوبارہ اس کام سے روکنے کی خاطر تادیب و سرزنش کے طور پر بدلہ لیا، جیسا کہ لدود کرنے والوں روکنے کے باوجود نہ رکنے پر لدود کروایا۔
اس طرح گستاخانہ رویہ اختیار کرنے والوں کو معاف فرمایا، بعض دفعہ اللہ کی ناراضی سے بچنے اور دوبارہ اس کام سے روکنے کی خاطر تادیب و سرزنش کے طور پر بدلہ لیا، جیسا کہ لدود کرنے والوں روکنے کے باوجود نہ رکنے پر لدود کروایا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2327 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4785 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4785]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4785]
فوائد ومسائل:
1) معاملات دین کے ہوں یا دنیا کے بندے کو چاہیئے کہ آسان جانب اختیار کرے اور پھر اخلاص اور پابندی کے ساتھ اس پر عمل پیرا رہے۔
یہ اس سے زیادہ افضل ہے کہ پُر مشقت عمل ایک دو بار کر کےچھوڑ دیا جائے۔
2) انسان اپنی ذات کے لیئے انتقام سے بالا تر تو اس میں بری فضیلت ہے۔
3) اللہ کی حرمتوں کی پامالی پر اللہ کے لیے غضبناک ہونا ایمان کا حصہ ہے۔
1) معاملات دین کے ہوں یا دنیا کے بندے کو چاہیئے کہ آسان جانب اختیار کرے اور پھر اخلاص اور پابندی کے ساتھ اس پر عمل پیرا رہے۔
یہ اس سے زیادہ افضل ہے کہ پُر مشقت عمل ایک دو بار کر کےچھوڑ دیا جائے۔
2) انسان اپنی ذات کے لیئے انتقام سے بالا تر تو اس میں بری فضیلت ہے۔
3) اللہ کی حرمتوں کی پامالی پر اللہ کے لیے غضبناک ہونا ایمان کا حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4785 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4786 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4786]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4786]
فوائد ومسائل:
افضلیت اس میں ہے کی اپنے زیردست کو جسمانی سزا نہ دی جائے اور جہاں تک ہو سکے زبانی فہمائش سے کام لیا جائے۔
تاہم اگر کوئی زبانی نصیحت یا روئیے کا نہ سمجھتا ہو تو مناسب سزا دینا جائز ہے۔
جیسے بد خوبیوں کے سلسلے میں قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے اور جنکی بد خوئی کا تمھیں اندیشہ ہو تو انھیں سمجھاؤ بستروں سے علیحدہ کردو اور مارو۔
افضلیت اس میں ہے کی اپنے زیردست کو جسمانی سزا نہ دی جائے اور جہاں تک ہو سکے زبانی فہمائش سے کام لیا جائے۔
تاہم اگر کوئی زبانی نصیحت یا روئیے کا نہ سمجھتا ہو تو مناسب سزا دینا جائز ہے۔
جیسے بد خوبیوں کے سلسلے میں قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے اور جنکی بد خوئی کا تمھیں اندیشہ ہو تو انھیں سمجھاؤ بستروں سے علیحدہ کردو اور مارو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4786 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1984 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے مارا، نہ کسی عورت کو، اور نہ کسی بھی چیز کو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1984]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے مارا، نہ کسی عورت کو، اور نہ کسی بھی چیز کو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1984]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رحمت و شفقت قابل تعریف صفت ہے۔
(2)
جہاں تک ممکن ہو بیوی بچوں اور نوکروں کو جسمانی سزا دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
غصے میں آکر جانوروں کو مار پیٹ کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رحمت و شفقت قابل تعریف صفت ہے۔
(2)
جہاں تک ممکن ہو بیوی بچوں اور نوکروں کو جسمانی سزا دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
غصے میں آکر جانوروں کو مار پیٹ کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1984 سے ماخوذ ہے۔