حدیث نمبر: 614
303- وعن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبى الحباب سعيد بن يسار عن أبى هريرة أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إن الله يقول يوم القيامة: أين المتحابون لجلالي، اليوم أظلهم فى ظلي يوم لا ظل إلا ظلي.“
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ قیامت کے دن فرمائے گا : میرے جلالتِ شان کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ میں آج انہیں اپنے (عرش کے) سائے میں رکھوں گا ، آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے۔ “

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 614
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «303- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 952/1 ح 1840 ، ك 51 ب 5 ح 13) التمهيد 428/17 ، الاستذكار : 1776 ، و أخرجه مسلم (2562) من حديث مالك به .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´سات قسم کے خوش نصیب لوگ`
«. . . 303- وعن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبى الحباب سعيد بن يسار عن أبى هريرة أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يقول يوم القيامة: أين المتحابون لجلالي، اليوم أظلهم فى ظلي يوم لا ظل إلا ظلي. . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلالتِ شان کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ میں آج انہیں اپنے (عرش کے) سائے میں رکھوں گا، آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 614]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 2562، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ صرف اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنا بہت فضیلت والا کام ہے۔
➋ نیز دیکھئے [الموطأ ح:155، 446، 414، والبخاري 6806، ومسلم: 2637،1031، و صححه ابن حبان الموارد: 2510]
➌ قول راجح میں حدیث قدسی کے الفاظ بھی اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہوتے ہیں۔ دیکھئے [تحرير علوم الحديث تصنيف شيخ عبدالله بن يوسف الجديع العراقي دهو من المعاصرين ج 1 ص 37]
➍ ہر عمل خالص اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے ہونا چاہئے۔
➎ اسلام ہی وہ دین ہے جو محبت بانٹ رہا ہے اور آپس میں اخوت و بھائی چارے کو فروغ دے رہا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 303 سے ماخوذ ہے۔