حدیث نمبر: 592
460- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى فى جدار القبلة بصاقا أو مخاطا أو نخامة فحكه.
حافظ زبیر علی زئی

اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ دیوار پر تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے کھرچ (کر صاف کر) دیا ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 592
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «460- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 195/1 ح 459 ، ك 14 ب 3 ح 5) التمهيد 136/22 ، الاستذكار : 428 ، و أخرجه البخاري (407) ومسلم (549) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´قبلہ کی طرف تھوکنا حرام ہے`
«. . . 460- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى فى جدار القبلة بصاقا أو مخاطا أو نخامة فحكه. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ دیوار پر تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے کھرچ (کر صاف کر) دیا۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 592]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 407، ومسلم 549، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ کتاب و سنت کے مخالف امور کی حتی الوسع اصلاح کر دینی چاہئے۔
➋ مسجد کی صفائی کرنا سنت ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر بے حد مہربان تھے۔
➍ ہر وقت خود صفائی کا خیال رکھنا چاہئے۔
➎ مسجد کی صفائی سے عزت میں کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ اس میں عظمت ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 205]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 460 سے ماخوذ ہے۔