حدیث نمبر: 545
440- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من حلف بيمين فرأى خيرا منها فليكفر عن يمينه وليفعل.“
حافظ زبیر علی زئی

اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو آدمی کسی بات کی قسم کھائے پھر دیکھے کہ دوسری بات بہتر ہے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے کر دوسری بات کرے ۔ “

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 545
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «440- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 478/2 ح 1052 ، ك 22 ب 7 ح 11 ، ولفظه : ”من حلف بيمين فرأي غيرها خيرا منها فليكفر عن يمينه وليفعل الذى هو خير“) التمهيد 243/21 ، الاستذكار : 987 ، و أخرجه مسلم (1650/12) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´قسم کا کفارہ`
«. . . 440- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من حلف بيمين فرأى خيرا منها فليكفر عن يمينه وليفعل." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو آدمی کسی بات کی قسم کھائے پھر دیکھے کہ دوسری بات بہتر ہے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے کر دوسری بات کرے۔ " . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 545]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1650/12، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ انسانی حقوق کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی نیک کام پر قسم کھائے اور بعد میں کسی دوسرے نیک کام کا ارادہ ہو جائے تو اس قسم کا کفارہ ادا کرکے دوسرا کام کرنا جائز ہے۔ یادر ہے کہ وعدہ پورا کرنا پڑے گا۔
➋ قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانے درجے کا کھانا کھلاتا، کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ جو شخص یہ نہ پائے تو تین روزے رکھ لے۔ دیکھئے [سورة المائده آيت: 89]
➌ کتاب وسنت کے خلاف اور فضول قسموں کا کوئی کفارہ نہیں ہے بلکہ توبہ کرکے اس قسم کو فوراً توڑ دینا چاہئے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 440 سے ماخوذ ہے۔