حدیث نمبر: 485
442- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا سمعت الرجل يقول: هلك الناس، فهو أهلكهم.“حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´غلط افوہوں کی مذمت`
«. . . 442- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا سمعت الرجل يقول: هلك الناس، فهو أهلكهم." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔" . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 485]
«. . . 442- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا سمعت الرجل يقول: هلك الناس، فهو أهلكهم." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔" . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 485]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 2623، من حديث ما لك به .]
تفقه:
➊ بعض لوگ دوسرے لوگوں کو خوامخواہ اور حقارت سے برا کہتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتے، یہ انتہائی بری حرکت ہے۔
➋ شرعی دلیل کے بغیر کسی پر جرح نہیں کرنی چا ہے لیکن یادر ہے کہ مجہول کی روایت مردود ہوتی ہے۔
➌ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرانا چاہئے۔ اللہ کے عذاب کے ڈرانے اور اس کی رحمت سے مایوس کرنے میں فرق ہے۔
➍ اس حدیث سے کفار کی مروجہ رسم اپریل فول کا رد بھی ہوتا ہے، جو اب بڑی تیزی کے ساتھ جاہل مسلمانوں میں پھیلتی جا رہی ہے۔
[وأخرجه مسلم 2623، من حديث ما لك به .]
تفقه:
➊ بعض لوگ دوسرے لوگوں کو خوامخواہ اور حقارت سے برا کہتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتے، یہ انتہائی بری حرکت ہے۔
➋ شرعی دلیل کے بغیر کسی پر جرح نہیں کرنی چا ہے لیکن یادر ہے کہ مجہول کی روایت مردود ہوتی ہے۔
➌ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرانا چاہئے۔ اللہ کے عذاب کے ڈرانے اور اس کی رحمت سے مایوس کرنے میں فرق ہے۔
➍ اس حدیث سے کفار کی مروجہ رسم اپریل فول کا رد بھی ہوتا ہے، جو اب بڑی تیزی کے ساتھ جاہل مسلمانوں میں پھیلتی جا رہی ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 442 سے ماخوذ ہے۔