حدیث نمبر: 456
444- وبه: أن رجلا من أسلم قال: ما نمت هذه الليلة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من أى شيء؟“ فقال: لدغتني عقرب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق، لم تضرك إن شاء الله.“
حافظ زبیر علی زئی

اسلم (قبیلے) کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ ایک رات میں سو نہ سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کس وجہ سے ؟“ اس نے کہا: مجھے بچھونے کاٹا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم شام کے وقت «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ»  ”میں اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس کے شر سے جو اس نے پیدا کیا ۔“ پڑھتے تو ان شاءاللہ تجھے کوئی نقصان نہ ہوتا ۔ “

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 456
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «444- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 951/2 ح 1838 ، ك 51 ب 4 ح 11) التمهيد 241/21 ، الاستذكار : 1774 ، و أخرجه أحمد (375/2) والبخاري فى خلق افعال العباد (58) والنسائي (السنن الكبريٰ : 10425 ، عمل اليوم والليلة : 589) من حديث مالك به ورواه مسلم (2709/55) من حديث ابي صالح به نحو المعنيٰ .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´«اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» کی اہمیت`
«. . . 444- وبه: أن رجلا من أسلم قال: ما نمت هذه الليلة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أى شيء؟" فقال: لدغتني عقرب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق، لم تضرك إن شاء الله." . . .»
". . . اسلم (قبیلے) کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ ایک رات میں سو نہ سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کس وجہ سے؟" اس نے کہا: مجھے بچھونے کاٹا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم شام کے وقت «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» "میں اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس کے شر سے جو اس نے پیدا کیا۔" پڑھتے تو ان شاءاللہ تجھے کوئی نقصان نہ ہوتا۔ " . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 456]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه أحمد 375/2، والبخاري فى خلق افعال العباد 58، والنسائي السنن الكبريٰ: 10425، عمل اليوم والليلة: 589، من حديث مالك به ورواه مسلم 2709/55، من حديث ابي صالح به نحو المعنيٰ]
تفقه:
➊ صبح و شام کے اذکار میں «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہ پڑھنے سے اللہ تعالی فتنوں اور مصیبتوں اور خاص طور پر ڈنگ مارنے والی اشیاء کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ ان شاءاللہ
➋ اپنے آپ کو کثرت سے مسنون اذکار میں مصروف رکھنا چاہئے۔
➌ صرف اللہ ہی مشکل کشا ہے۔
➍ قرآن و حدیث پرعمل کرنے میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 444 سے ماخوذ ہے۔