حدیث نمبر: 454
431- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير فى يوم مئة مرة، كانت له عدل عشر رقاب وكتب الله له مئة حسنة ومحيت عنه مئة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك، حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا أحد عمل أكثر من ذلك. ومن قال: سبحان الله وبحمده فى يوم مئة مرة، حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر.“
حافظ زبیر علی زئی

اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو آدمی دن میں سو دفعہ  «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»  کہے تو اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ، اللہ اس کے لئے سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے سو گناہ (معاف کر کے) مٹا دئیے جاتے ہیں ۔ یہ (کلمات) اس کے لئے اس دن شام تک شیطان سے بچاؤ کا  ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی آدمی اس سے افضل عمل والا نہیں ہوتا سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے ۔ اور جس شخص نے دن میں سو مرتبہ  «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ»  پڑھا تو اس کے گناہ ختم (معاف) کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔ “

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 454
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «431- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 209/1 ، 210 ح 490 ، ك 15 ب 7 ح 20) التمهيد 19/22 ، الاستذكار : 458 ، و أخرجه البخاري (3293) ومسلم (2691) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´«سبحان الله وبحمده» کی فضیلت`
«. . . 431- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير فى يوم مئة مرة، كانت له عدل عشر رقاب وكتب الله له مئة حسنة ومحيت عنه مئة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك، حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا أحد عمل أكثر من ذلك. ومن قال: سبحان الله وبحمده فى يوم مئة مرة، حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو آدمی دن میں سو دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» کہے تو اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اللہ اس کے لئے سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے سو گناہ (معاف کر کے) مٹا دئیے جاتے ہیں۔ یہ (کلمات) اس کے لئے اس دن شام تک شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی آدمی اس سے افضل عمل والا نہیں ہوتا سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔ اور جس شخص نے دن میں سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھا تو اس کے گناہ ختم (معاف) کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ " . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 454]
تخریج الحدیث:
[واخرجه البخاري 3293، ومسلم 2691، من حديث مالك به]
تفقه:
«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۔ دس دفعہ اور«سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» سو دفعہ کہنا افضل ترین اعمال میں سے ہیں۔
◄ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص ہر نماز کے آخر میں تنتیس بار سبحان اللہ، تنتیس بار اللہ اکبر، تنتیس بار الحمد للہ اور آخری دفعہ جس سے سو کا عدد پورا ہو جائے«لااله الاالله وحده لاشريك له، له الملك وله الحمد وهو على كلّ شيءِِ قدير» ۔ پڑھے تو اس کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔[الموطأ 1/210 ح491 وسنده صحيح، صحيح مسلم: 597، دارالسلام: 1352، مرفوعاً وسنده صحيح]
➌ اعمال میں ذِکر کی بہت زیادہ فضیلت و اہمیت ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 431 سے ماخوذ ہے۔