حدیث نمبر: 400
104- مالك عن أبى الزبير عن جابر بن عبد الله السلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يأكل الرجل بشماله، أو يمشي فى نعل واحدة، أو أن يشتمل الصماء، أو أن يحتبي فى ثوب واحد كاشفا عن فرجه.حافظ زبیر علی زئی
سیدنا جابر بن عبداللہ السلمی (الانصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی میں چلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء (سر سے پاوں تک ایک کپڑا لپیٹنے) سے یا ایک کپڑے سے گوٹھ مارنا جس سے شرمگاہ ننگی رہے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´بغیر شرعی دلیل کے دوسروں کے سامنے شرمگاہ ننگی کرنا حرام ہے`
«. . . عن جابر بن عبد الله السلمي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان ياكل الرجل بشماله، او يمشي فى نعل واحدة، او ان يشتمل الصماء، او ان يحتبي فى ثوب واحد كاشفا عن فرجه . . .»
”. . . سیدنا جابر بن عبداللہ السلمی (الانصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی میں چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء (سر سے پاوں تک ایک کپڑا لپیٹنے) سے یا ایک کپڑے سے گوٹھ مارنا جس سے شرمگاہ ننگی رہے منع فرمایا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 400]
«. . . عن جابر بن عبد الله السلمي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان ياكل الرجل بشماله، او يمشي فى نعل واحدة، او ان يشتمل الصماء، او ان يحتبي فى ثوب واحد كاشفا عن فرجه . . .»
”. . . سیدنا جابر بن عبداللہ السلمی (الانصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی میں چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء (سر سے پاوں تک ایک کپڑا لپیٹنے) سے یا ایک کپڑے سے گوٹھ مارنا جس سے شرمگاہ ننگی رہے منع فرمایا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 400]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 2099/70، من حديث ما لك ورواه 2099/72، من حديث الليث بن سعدعن ابي الزبير به]
تفقه
➊ دین اسلام مکمل دین ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں واضح یا عام ہدایات موجود ہیں۔ والحمدللہ
➋ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور یہ اس کا شعار ہے لہٰذا دین اسلام میں (بغیر شرعی عذر کے) بائیں ہاتھ سے کھانا پینا منع ہے۔
● ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھارہا تھا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «كُل بيمينك» ”دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ وہ شخص تکبر سے بولا: میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے اس کی طاقت نہ دے۔“ پھر وہ (ساری زندگی) اپنا دایاں ہاتھ اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا یعنی اس کا دایاں ہاتھ شل ہو گیا۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 2021 وترقيم دارالسلام: 5268]
➌ اسلام شرم و حیا کا علمبردار ہے اور اس کا تقاضا کرتا ہے لہٰذا وہ تمام راستے اور طریقے اختیار کرنے چاہئیں جن سے انسان کی عزت و عفت محفوظ رہے اور انسان بےپردہ و ذلیل نہ ہو۔
➍ بغیر شرعی دلیل کے دوسروں کے سامنے شرمگاہ ننگی کرنا حرام ہے۔
➎ ایک جوتے میں چلنا بےفائدہ مضحکہ خیز اور وقار کے منافی ہے۔
➏ ایسی تمام حرکتوں سے کلی اجتناب کرنا چاہئے جن کا نتیجہ بداخلاقی، فحاشی اور فضولیات پر مبنی ہوتا ہے۔
➐ لوگوں کی نظروں سے شرمگاہ کا چھپانا بالاجماع فرض ہے۔ [التمهيد 171/12]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن امور کو سرانجام دینے کا حکم دیں ان پرعمل پیرا ہونا اور جس چیز سے منع کریں اس سے رکنا لازمی دضروری ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روکے اس سے رک جاؤ۔ [59-الحشر: 7]
[وأخرجه مسلم 2099/70، من حديث ما لك ورواه 2099/72، من حديث الليث بن سعدعن ابي الزبير به]
تفقه
➊ دین اسلام مکمل دین ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں واضح یا عام ہدایات موجود ہیں۔ والحمدللہ
➋ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور یہ اس کا شعار ہے لہٰذا دین اسلام میں (بغیر شرعی عذر کے) بائیں ہاتھ سے کھانا پینا منع ہے۔
● ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھارہا تھا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «كُل بيمينك» ”دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ وہ شخص تکبر سے بولا: میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے اس کی طاقت نہ دے۔“ پھر وہ (ساری زندگی) اپنا دایاں ہاتھ اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا یعنی اس کا دایاں ہاتھ شل ہو گیا۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 2021 وترقيم دارالسلام: 5268]
➌ اسلام شرم و حیا کا علمبردار ہے اور اس کا تقاضا کرتا ہے لہٰذا وہ تمام راستے اور طریقے اختیار کرنے چاہئیں جن سے انسان کی عزت و عفت محفوظ رہے اور انسان بےپردہ و ذلیل نہ ہو۔
➍ بغیر شرعی دلیل کے دوسروں کے سامنے شرمگاہ ننگی کرنا حرام ہے۔
➎ ایک جوتے میں چلنا بےفائدہ مضحکہ خیز اور وقار کے منافی ہے۔
➏ ایسی تمام حرکتوں سے کلی اجتناب کرنا چاہئے جن کا نتیجہ بداخلاقی، فحاشی اور فضولیات پر مبنی ہوتا ہے۔
➐ لوگوں کی نظروں سے شرمگاہ کا چھپانا بالاجماع فرض ہے۔ [التمهيد 171/12]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن امور کو سرانجام دینے کا حکم دیں ان پرعمل پیرا ہونا اور جس چیز سے منع کریں اس سے رکنا لازمی دضروری ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روکے اس سے رک جاؤ۔ [59-الحشر: 7]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 104 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2099 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گونگلی بکل، ایک کپڑے میں گوٹھ مارنے اور پشت کے بل لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5501]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: چت لیٹ کر، ٹانگ کھڑی کر کے، دوسرے پاؤں گھٹنے پر رکھنا منع ہے، کیونکہ اس سے شرم گاہ کھلنے کا احتمال ہے اور ہیت کذائی بھی اچھی نہیں ہے، لیکن اگر پاؤں پھیلا کر، ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لیا جائے تو اس میں شرم گاہ کھلنے کا احتمال یا خطرہ نہیں ہے اور یہ جائز ہے اور آپ اس طرح لیٹ جاتے تھے، ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسے لیٹ جاتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2099 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2099 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے، یا ایک جوتی پہن کر چلے، یا گونگلی، بکل مارے اور ایک کپڑے میں اس طرح گوٹھ مارنے سے کہ اس کی شرمگاہ کھلی ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5499]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
الصماء: اہل لغت کے نزدیک اس کا معنی گونگی بکل ہے، جس میں ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور انہیں باہر نکلنے کی گنجائش نہیں رہتی، اس طرح انسان ضرورت کے وقت اپنا تحفظ یا دفاع نہیں کرسکتا اور فقہاء کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنا جسم ایک کپڑے سے ڈھانپ لے، پھر اس کو آگے سے یا پیچھے سے اٹھا کر سر پر رکھ لے یا چادر کو ایک طرف سے اٹھا کر کندھے پر رکھ لے جس سے شرم گاہ کھل جائے تو یہ شرم گاہ کے کھلنے کی بنا پر ممنوع ہے۔
(2)
إحتباء: انسان اپنی سرین کے بل بیٹھ کر، اپنی پنڈلیاں کھڑی کرلے اور انہیں ایک کپڑے سے گھیر لے، یعنی گھٹنوں کے گرد کپڑے یا ہاتھوں کا حلقہ باندھ لیں، اس سے اگر شرم گاہ کھل جائے تو ناجائز ہے، اگر شرم گاہ ننگی نہ ہو جبکہ انسان شلوار، قمیص پہن کر ایسا کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(1)
الصماء: اہل لغت کے نزدیک اس کا معنی گونگی بکل ہے، جس میں ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور انہیں باہر نکلنے کی گنجائش نہیں رہتی، اس طرح انسان ضرورت کے وقت اپنا تحفظ یا دفاع نہیں کرسکتا اور فقہاء کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنا جسم ایک کپڑے سے ڈھانپ لے، پھر اس کو آگے سے یا پیچھے سے اٹھا کر سر پر رکھ لے یا چادر کو ایک طرف سے اٹھا کر کندھے پر رکھ لے جس سے شرم گاہ کھل جائے تو یہ شرم گاہ کے کھلنے کی بنا پر ممنوع ہے۔
(2)
إحتباء: انسان اپنی سرین کے بل بیٹھ کر، اپنی پنڈلیاں کھڑی کرلے اور انہیں ایک کپڑے سے گھیر لے، یعنی گھٹنوں کے گرد کپڑے یا ہاتھوں کا حلقہ باندھ لیں، اس سے اگر شرم گاہ کھل جائے تو ناجائز ہے، اگر شرم گاہ ننگی نہ ہو جبکہ انسان شلوار، قمیص پہن کر ایسا کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2099 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2767 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ کرنے اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2767]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ کرنے اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2767]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (اشتمال صمّاء): یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پرلپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں، اورحرکت کرنا مشکل ہو۔
2؎: (احتباء): یہ ہے کہ آدمی دونوں سرینوں (چوتڑوں) کے اوپر بیٹھے اوردونوں پنڈلیوں کو کھڑی کرکے پیٹ سے لگا لے اوراوپر سے ایک کپڑا ڈال لے، اس صورت میں شرمگاہ کھلنے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔
اوراگر اچانک اٹھنا پڑ جائے تو آدمی جلدی سے اُٹھ بھی نہیں سکتا۔
وضاحت:
1؎: (اشتمال صمّاء): یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پرلپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں، اورحرکت کرنا مشکل ہو۔
2؎: (احتباء): یہ ہے کہ آدمی دونوں سرینوں (چوتڑوں) کے اوپر بیٹھے اوردونوں پنڈلیوں کو کھڑی کرکے پیٹ سے لگا لے اوراوپر سے ایک کپڑا ڈال لے، اس صورت میں شرمگاہ کھلنے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔
اوراگر اچانک اٹھنا پڑ جائے تو آدمی جلدی سے اُٹھ بھی نہیں سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2767 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4081 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جسم پر اس طرح کپڑا لپیٹنا کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں منع ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4081]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4081]
فوائد ومسائل:
پہلی صورت میں انسان کسی طرح نہیں سنبھل نہیں سکتا، گر سکتا ہے، کسی موذی جانوراور کیڑے مکوڑے سے اپنا دفاع تک نہیں کرسکتا اوراس انداز کو پنجابی زبان میں بولی بکل کہتے ہیں، دوسری صورت اس وقت ممنوع ہے، جب اس سے اس کی شرم گاہ ظاہر ہوتی ہو بعض اوقات اوباش لوگ عمدا اس طرح کرتے ہیں، مگر باپردہ اور احتیاط سے احتباء کی صورت میں بیٹھنا جائز ہے۔
پہلی صورت میں انسان کسی طرح نہیں سنبھل نہیں سکتا، گر سکتا ہے، کسی موذی جانوراور کیڑے مکوڑے سے اپنا دفاع تک نہیں کرسکتا اوراس انداز کو پنجابی زبان میں بولی بکل کہتے ہیں، دوسری صورت اس وقت ممنوع ہے، جب اس سے اس کی شرم گاہ ظاہر ہوتی ہو بعض اوقات اوباش لوگ عمدا اس طرح کرتے ہیں، مگر باپردہ اور احتیاط سے احتباء کی صورت میں بیٹھنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4081 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5344 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5344]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5344]
اردو حاشہ: معلوم ہوا اگر پورے کپڑے پہنے ہوں اور کسی زائد کپڑے سے گوٹھ مارے جس سے پردے پر کوئی اثر نہ پڑے تو کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5344 سے ماخوذ ہے۔