حدیث نمبر: 380
474- مالك حدثني هشام بن عروة عن أبيه عن المسور بن مخرمة أن سبيعة الأسلمية نفست بعد وفاة زوجها بليال، فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنته أن تنكح، فأذن لها، فنكحت.
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے خاوند کی وفات کے کچھ دنوں بعد بچہ پیدا ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوسری شادی کی اجازت لینے آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، چنانچہ انہوں نے نکا ح کر لیا ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 380
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «474- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 590/2 ح 1288 ، ك 29 ب 30 ح 85 بلفظ مختلف) التمهيد 208/22 ، الاستذكار : 1206 ، و أخرجه البخاري (5320) من حديث مالك به .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے`
«. . . 474- مالك حدثني هشام بن عروة عن أبيه عن المسور بن مخرمة أن سبيعة الأسلمية نفست بعد وفاة زوجها بليال، فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنته أن تنكح، فأذن لها، فنكحت. . . .»
. . . سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے خاوند کی وفات کے کچھ دنوں بعد بچہ پیدا ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوسری شادی کی اجازت لینے آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ انہوں نے نکا ح کر لیا۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 380]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5320، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حاملہ عورت کی عدت اس کے بچے کی پیدائش سے ختم ہو جاتی ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [الموطأ: 396، و النسائي 192٬191/6ح 3540]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 474 سے ماخوذ ہے۔