حدیث نمبر: 37
461- وبه: أنها قالت: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي فبال على ثوبه، فدعا بماء فأتبعه إياه.
حافظ زبیر علی زئی

اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس (کپڑے) پر پانی ڈال دیا ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 37
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «461- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 64/1 ح 137 ، ك 2 ب 30 ح 109) التمهيد 108/9 ، الاستذكار : 116 و أخرجه البخاري (222) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´شیر خوار بچے کا پیشاب`
«. . . 461- وبه: أنها قالت: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي فبال على ثوبه، فدعا بماء فأتبعه إياه. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس (کپڑے) پر پانی ڈال دیا۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 37]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 222، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ فقہ الحدیث کے لئے دیکھئے: الموطأ حدیثِ سابق: 56
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب، مختار کل اور مشکل کشا نہیں تھے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 461 سے ماخوذ ہے۔