حدیث نمبر: 356
97- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يخطب أحدكم على خطبة أخيه.“حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´منگنی کرنا جائز ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يخطب احدكم على خطبة اخيه . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 356]
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يخطب احدكم على خطبة اخيه . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 356]
تفقه
➊ منگنی کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں ہندوانہ رسمیں اور خلاف شریعت امور نہ ہوں۔
➋ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی بھائی ہے بشرطیکہ کتاب وسنت کے خلاف امور کا مرتکب نہ ہو۔
➌ اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ منگنی کر لے اور حق مہر وغیرہ کا تعین ہو جائے تو پھر دوسرے لوگوں کو اس عورت سے منگنی و شادی کا خیال ترک کر دینا چاہئے۔ اسی باب میں سے فریقین کی باہمی رضامندی کا اظہار ہے۔ اس اظہار کے بعد کسی دوسرے شخص سے اس عورت سے منگنی و شادی کی کوشش کرنا جائز نہیں ہے۔
➍ دین اسلام میں ساری انسانیت کے لئے خیر اور بھلائی ہے۔
➎ اختلاف، فساد اور جھگڑے والی باتوں سے دور رہنا چاہئے۔
➏ نیز دیکھئے: [ح351، 229]
➊ منگنی کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں ہندوانہ رسمیں اور خلاف شریعت امور نہ ہوں۔
➋ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی بھائی ہے بشرطیکہ کتاب وسنت کے خلاف امور کا مرتکب نہ ہو۔
➌ اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ منگنی کر لے اور حق مہر وغیرہ کا تعین ہو جائے تو پھر دوسرے لوگوں کو اس عورت سے منگنی و شادی کا خیال ترک کر دینا چاہئے۔ اسی باب میں سے فریقین کی باہمی رضامندی کا اظہار ہے۔ اس اظہار کے بعد کسی دوسرے شخص سے اس عورت سے منگنی و شادی کی کوشش کرنا جائز نہیں ہے۔
➍ دین اسلام میں ساری انسانیت کے لئے خیر اور بھلائی ہے۔
➎ اختلاف، فساد اور جھگڑے والی باتوں سے دور رہنا چاہئے۔
➏ نیز دیکھئے: [ح351، 229]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 97 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5144 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5144. (نیز آپ نے فرمایا) ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا منگنی ترک کر دے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5144]
حدیث حاشیہ: اخلاق فاضلہ کی تعلیم کے لئے اس حدیث کو بنیادی حیثیت دی جا سکتی ہے۔
اصلاح معاشرہ اور صالح ترین سماج بنانے کے لئے ان اوصاف حسنہ کا ہونا ضروری ہے، بد گمانی عیب جوئی چغلی سب اس میں داخل ہے، اسلام کا منشا سارے انسانوں کو مخلص ترین بھائیوں کی طرح زندگی گذارنے کا پیغام دینا ہے۔
اصلاح معاشرہ اور صالح ترین سماج بنانے کے لئے ان اوصاف حسنہ کا ہونا ضروری ہے، بد گمانی عیب جوئی چغلی سب اس میں داخل ہے، اسلام کا منشا سارے انسانوں کو مخلص ترین بھائیوں کی طرح زندگی گذارنے کا پیغام دینا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5144 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5144 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5144. (نیز آپ نے فرمایا) ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا منگنی ترک کر دے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5144]
حدیث حاشیہ:
(1)
دیانت و امانت کا تقاضا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے سودے یا اس کی منگنی کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے، ہاں وہ خود چھوڑ دے یا اجازت دے دے تو الگ بات ہے۔
(2)
یہ امتناعی حکم اس صورت میں ہے کہ عورت کا میلان ہو جائے اور منگنے طے پاجائے کیونکہ فاطمہ بنت قیس کو جب طلاق ہوئی تو عدت ختم ہونے کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے پیغام نکاح بھیجا۔
اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا۔
اس صورت میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کا میلان کسی طرف نہیں ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کرنے کا مشورہ دے دیا۔
(3)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کے واقعے سے امتناعی حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
یہ موقف محل نظر ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ امتناعی حکم اس صورت میں ہے جب پہلے شخص نے جائز طور پر پیغام نکاح بھیجا ہو۔
اگر اس کا پیغام نکاح بھیجنا ہی جائز نہ تھا، مثلاً: اس نے دوران عدت میں پیغام نکاح بھیجا تو اس صورت میں عدت ختم ہونے کے بعد کوئی بھی پیغام نکاح بھیج سکتا ہے اور پہلا پیغام کا لعدم ہوگا۔
(فتح الباري: 251/9)
(1)
دیانت و امانت کا تقاضا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے سودے یا اس کی منگنی کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے، ہاں وہ خود چھوڑ دے یا اجازت دے دے تو الگ بات ہے۔
(2)
یہ امتناعی حکم اس صورت میں ہے کہ عورت کا میلان ہو جائے اور منگنے طے پاجائے کیونکہ فاطمہ بنت قیس کو جب طلاق ہوئی تو عدت ختم ہونے کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے پیغام نکاح بھیجا۔
اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا۔
اس صورت میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کا میلان کسی طرف نہیں ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کرنے کا مشورہ دے دیا۔
(3)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کے واقعے سے امتناعی حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
یہ موقف محل نظر ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ امتناعی حکم اس صورت میں ہے جب پہلے شخص نے جائز طور پر پیغام نکاح بھیجا ہو۔
اگر اس کا پیغام نکاح بھیجنا ہی جائز نہ تھا، مثلاً: اس نے دوران عدت میں پیغام نکاح بھیجا تو اس صورت میں عدت ختم ہونے کے بعد کوئی بھی پیغام نکاح بھیج سکتا ہے اور پہلا پیغام کا لعدم ہوگا۔
(فتح الباري: 251/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5144 سے ماخوذ ہے۔