موطا امام مالك رواية ابن القاسم
— نکاح کے مسائل
باب: بیوہ یا مطلقہ کی دوسرے نکاح کے لئے مرضی ضروری ہے
حدیث نمبر: 352
390- وبه: عن أبيه عن عبد الرحمن ومجمع ابني يزيد بن جارية الأنصاري عن خنساء ابنة خدام الأنصارية أن أباها زوجها وهى ثيب، فكرهت ذلك فأتت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحه. كمل حديث عبد الرحمن وهو ثمانية أحاديث.حافظ زبیر علی زئی
سیدہ خنساء بنت خدام الانصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان (کی مرضی کے بغیر ان) کا نکاح کر دیا تھا اور وہ کنواری نہیں تھیں ، انہوں نے اس نکاح کو ناپسند کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو مردود قرار دیا تھا ۔ ، عبدالرحمن (بن القاسم) کی بیان کردہ حدیثیں مکمل ہویئں اور یہ آٹھ حدیثیں ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´بیوہ یا مطلقہ کی دوسرے نکاح کے لئے مرضی ضروری ہے`
«. . . 390- وبه: عن أبيه عن عبد الرحمن ومجمع ابني يزيد بن جارية الأنصاري عن خنساء ابنة خدام الأنصارية أن أباها زوجها وهى ثيب، فكرهت ذلك فأتت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحه. كمل حديث عبد الرحمن وهو ثمانية أحاديث. . . .»
”. . . سیدہ خنساء بنت خدام الانصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان (کی مرضی کے بغیر ان) کا نکاح کر دیا تھا اور وہ کنواری نہیں تھیں، انہوں نے اس نکاح کو ناپسند کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو مردود قرار دیا تھا۔، عبدالرحمن (بن القاسم) کی بیان کردہ حدیثیں مکمل ہویئں اور یہ آٹھ حدیثیں ہیں۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 352]
«. . . 390- وبه: عن أبيه عن عبد الرحمن ومجمع ابني يزيد بن جارية الأنصاري عن خنساء ابنة خدام الأنصارية أن أباها زوجها وهى ثيب، فكرهت ذلك فأتت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحه. كمل حديث عبد الرحمن وهو ثمانية أحاديث. . . .»
”. . . سیدہ خنساء بنت خدام الانصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان (کی مرضی کے بغیر ان) کا نکاح کر دیا تھا اور وہ کنواری نہیں تھیں، انہوں نے اس نکاح کو ناپسند کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو مردود قرار دیا تھا۔، عبدالرحمن (بن القاسم) کی بیان کردہ حدیثیں مکمل ہویئں اور یہ آٹھ حدیثیں ہیں۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 352]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5138، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ جو عورت شادی شدہ ہو پھر اگر اس کا خاوند فوت ہو جائے یا طلاق ہو جائے یا اس کا نکاح ٹوٹ جائے تو دوسرا نکاح اس کی واضح مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
➋ کتاب و سنت کے مقابلے میں ہر مسئلہ مردود ہے۔
[وأخرجه البخاري 5138، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ جو عورت شادی شدہ ہو پھر اگر اس کا خاوند فوت ہو جائے یا طلاق ہو جائے یا اس کا نکاح ٹوٹ جائے تو دوسرا نکاح اس کی واضح مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
➋ کتاب و سنت کے مقابلے میں ہر مسئلہ مردود ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 390 سے ماخوذ ہے۔