موطا امام مالك رواية ابن القاسم
— عیدین و قربانی کے مسائل
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھایا جا سکتا ہے
309- وعن عبد الله بن أبى بكر عن عبد الله بن واقد أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال عبد الله بن أبى بكر: فذكرت ذلك لعمرة بنت عبد الرحمن فقالت: صدق، سمعت عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم تقول: دف ناس من أهل البادية حضرة الأضحى فى زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”ادخروا الثلاث وتصدقوا بما بقي“، قالت: فلما كان بعد ذلك، قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، لقد كان الناس ينتفعون بضحاياهم ويجملون منها الودك ويتخذون منها الأسقية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”وما ذاك؟“، أو كما قال، قالوا: يا رسول الله، نهيت عن إمساك لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت عليكم، فكلوا وتصدقوا وادخروا.“عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا ، عبداللہ بن ابی بکر (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر عمرہ بنت عبدالرحمٰن (رحمہا اللہ) سے کیا تو انہوں نے کہا: اُس (عبداللہ بن واقد) نے سچ کہا: ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کے وقت کچھ (خانہ بدوش) لوگ مدینہ آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تین دن (گوشت کا) ذخیرہ کرو اور باقی صدقہ کر دو۔ “ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا : یا رسول اللہ ! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے ، چربی پگھلاتے اور (کھالوں کی) مشکیں بناتے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا بات ہے ؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت روکے رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے تمہیں ان لوگوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس (مدینہ میں) آئے تھے ۔ پس (اب) کھاؤ ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . 309- وعن عبد الله بن أبى بكر عن عبد الله بن واقد أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال عبد الله بن أبى بكر: فذكرت ذلك لعمرة بنت عبد الرحمن فقالت: صدق، سمعت عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم تقول: دف ناس من أهل البادية حضرة الأضحى فى زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”ادخروا الثلاث وتصدقوا بما بقي“، قالت: فلما كان بعد ذلك، قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، لقد كان الناس ينتفعون بضحاياهم ويجملون منها الودك ويتخذون منها الأسقية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”وما ذاك؟“، أو كما قال، قالوا: يا رسول الله، نهيت عن إمساك لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت عليكم، فكلوا وتصدقوا وادخروا.“ . . .»
”. . . عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا، عبداللہ بن ابی بکر (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر عمرہ بنت عبدالرحمٰن (رحمہا اللہ) سے کیا تو انہوں نے کہا: اُس (عبداللہ بن واقد) نے سچ کہا:، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کے وقت کچھ (خانہ بدوش) لوگ مدینہ آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن (گوشت کا) ذخیرہ کرو اور باقی صدقہ کر دو۔ “ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، چربی پگھلاتے اور (کھالوں کی) مشکیں بناتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت روکے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں ان لوگوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس (مدینہ میں) آئے تھے۔ پس (اب) کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 349]
۔ تفقه
➊ علماء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تین دنوں سے زیادہ، قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیر کرنے سے ممانعت والا حکم منسوخ ہے دیکھئے [التمهيد 216/3]۔
➋ حافظ ابن عبد البر نے فرمایا کہ جس طرح قرآن میں ناسخ و منسوخ ہے اسی طرح حدیث میں بھی ناسخ و منسوخ ہے اور یہ اوامر ونواہی (احکام) میں تخفیف و مصالح وغیرہما کے لئے ہوتا ہے۔ اخبار سابقہ میں قطعاً نسخ نہیں ہوتا۔ روافض اور خوارج نے اس کا انکار کرکے یہود کی موافقت کی ہے اور یاد رہے کہ یہ بدأ کہتے ہیں یہ عقیدہ صریحاً کفر ہے۔
➌ ممانعت کے بعد جو حکم ہوتا ہے وہ اباحت پر محمول ہوتا ہے۔ [التمهيد 217/3]
لہٰذا اب یہ جائز ہے کہ ساری قربانی کا گوشت خود کھایا جائے یا سارا صدقہ کر دیا جائے یا پھر ذخیرہ کرلیا جائے۔ بعض علماء اس گوشت کے تین حصے کرنا پسند کرتے تے: ایک تہائی خود کھایا جائے، ایک تہائی صدقہ کردیا جائے اور ایک تہائی ذخیرہ کرلیا جائے لیکن پہلی بات راجح ہے۔ نیز دیکھئے [سورة الحج: 28، 36]
➍ حج کے علاہ دوسرے مقامات مثلاً مدینہ اور ساری زمین پر قربانی کرنا مسنون و مشروع ہے لہٰذ بعض منکرین حدیث کا یہ دعویٰ کہ قربانی حج کے ساتھ مخصوص ہے، غلط ہے۔
➎ بات کی تصدیق یا تحقیق کے لئے کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر امر ہے۔
ابن کثیر کی روایت کو طبرانی نے وصل کیا۔
(1)
طعام سے ہر وہ چیز مراد ہے جو کھائی جاتی ہو۔
اس حدیث میں پائے ذخیرہ کرنے کا بیان ہے۔
(2)
عنوان سے مناسبت واضح ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ تھا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا تاکہ مال دار لوگ غرباء و مساکین کو گوشت کھلائیں۔
اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
(3)
سائل کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہنس پڑنا بطور تعجب تھا کہ آل رسول کی معیشت میں وسعت نہ تھی اور کئی کئی روز فاقے سے گزر جاتے تو مجبوری کا سبب دریافت باعث تعجب ہے۔
(1)
حضرت عابس بن ربیعہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک کھانے سے منع فرمایا تھا؟ تو آپ نے فرمایا: ’’صرف ایک سال یہ پابندی عائد کی تھی، جب قحط کی وجہ سے لوگوں میں بھوک نے ڈیرے ڈال دیے تھے تو آپ نے چاہا کہ مال دار لوگ، غریبوں کو کھلائیں اور ان کی مشقت میں ان کا تعاون کریں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5423)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے غریب لوگوں کی غربت کی وجہ سے تین دن سے زیادہ گوشت کھانے سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس محتاج بن کر آئے تھے، اب کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ بھی کرو۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5103 (1971)
اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے والا خود بھی کھائے، دوستوں کو ہدیہ بھی دے اور غریبوں کو بھی کھلائے۔
(فتح الباري: 34/10)
الدافة: شہر میں آنے والی بادیہ نشین جماعت۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے ممانعت کا حکم قانونی حکم نہیں تھا، یہ تو محض ایک وقتی اور عارضی ضرورت کے تحت اس مصلحت کی خاطر تھا کہ باہر سے آنے والے ضرورتمندوں کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے، اس لیے آپ نے صحابہ کرام کے اس سوال پر کہ ہم قربانیوں سے مشکیں بناتے تھے اور چربی پگھلاتے تھے، تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا، ’’ما ذاك‘‘ اب اس میں کیا حرج ہے یا پھر کیا ہوا، اس لیے یہاں نسخ کا سوال نہیں ہے، کیونکہ یہ فقہی یا قانونی حکم نہیں تھا، ایک وقتی مصلحت کا تقاضا تھا اور اب بھی یہ مصلحت ہو، کسی علاقہ یا شہر اور بستی میں قربانیوں کی تعداد کم ہو اور محتاج و ضرورت مند زیادہ ہوں، تو اب بھی لوگوں کا اخلاقی فرض یہی ہو گا کہ زیادہ سے زیادہ گوشت صدقہ کیا جائے، جمہور کے نزدیک صدقہ کرنے کا حکم استحبابی ہے، جیسا کہ کھانے کا حکم استحبابی ہے، اگرچہ بعض ائمہ کے نزدیک قربانی کے گوشت کا کچھ حصہ صدقہ کرنا فرض ہے اور کھانا بھی فرض ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو “، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ” تو اب کیا ہوا؟ “ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: ” میں [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1570]
فائده:
اجازت کا لفظ اسی لئے فرمایا ہے۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ نے پہلے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا بعد میں اجازت دے دی جیسے کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔