حدیث نمبر: 325
425- وعن أبى النضر عن عمير مولى ابن عباس عن أم الفضل بنت الحارث: أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة فى صيام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال بعضهم: هو صائم، وقال بعضهم ليس بصائم. فأرسلت إليه أم الفضل بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشربه.حافظ زبیر علی زئی
سیدہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفات کے دن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا ۔ بعض نے کہا: آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا: آپ روزے سے نہیں ہیں ۔ پھر ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ عرفات میں اونٹ پر کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´عرفات کے دن حاجی کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے`
«. . . 425- وعن أبى النضر عن عمير مولى ابن عباس عن أم الفضل بنت الحارث: أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة فى صيام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال بعضهم: هو صائم، وقال بعضهم ليس بصائم. فأرسلت إليه أم الفضل بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشربه. . . .»
”. . . سیدہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفات کے دن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا: آپ روزے سے نہیں ہیں۔ پھر ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ عرفات میں اونٹ پر کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 325]
«. . . 425- وعن أبى النضر عن عمير مولى ابن عباس عن أم الفضل بنت الحارث: أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة فى صيام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال بعضهم: هو صائم، وقال بعضهم ليس بصائم. فأرسلت إليه أم الفضل بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشربه. . . .»
”. . . سیدہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفات کے دن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا: آپ روزے سے نہیں ہیں۔ پھر ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ عرفات میں اونٹ پر کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 325]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1661، ومسلم 1123، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عرفات کے دن حاجی کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسرے لوگوں کے لئے اس روزے کی بہت فضیلت ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ والے روزے کے بارے میں فرمایا: «يكفر السنة الماضيه والباقية» گزشتہ سال اور آنے والے سال کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [صحيح مسلم: 1162، دارالسلام: 2747]
➋ سواری پر کھانا پینا جائز ہے۔
➌ اہلِ حق کا آپس میں بعض مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
➍ سواری پر سوار ہوکر حج کرنا جائز ہے بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے۔
➎ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرفات کے دن روزہ رکھتی تھیں۔[الموطأ 1/375 ح853 وسنده صحيح]
➏ کھڑے ہو کر پانی وغیرہ پینا جائز ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم کھڑے ہونے کی حالت میں پیتے تھے۔۔۔۔۔ الخ [مسند أحمد 24/2 ح4765 وسنده حسن، و صححه ابن الجارود: 867 وابن حبان، الاحسان: 522٠، يزيد بن عطارد و ثقه ابن حبان وابن الجارد وفهو حسن الحديث وللحديث شاهد صحيح عند ابن حبان، الاحسان: 5301، دوسرا نسخه: 5325، موارد الظمآن: 1369، وسنن الترمذي: 1880، وقال: ”هذا حديث حسن صحيح غريب“]
◄ معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت والی احادیث منسوخ ہیں یا کراہیت تنزیہی پر محمول ہیں۔ واللہ اعلم
[وأخرجه البخاري 1661، ومسلم 1123، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عرفات کے دن حاجی کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسرے لوگوں کے لئے اس روزے کی بہت فضیلت ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ والے روزے کے بارے میں فرمایا: «يكفر السنة الماضيه والباقية» گزشتہ سال اور آنے والے سال کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [صحيح مسلم: 1162، دارالسلام: 2747]
➋ سواری پر کھانا پینا جائز ہے۔
➌ اہلِ حق کا آپس میں بعض مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
➍ سواری پر سوار ہوکر حج کرنا جائز ہے بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے۔
➎ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرفات کے دن روزہ رکھتی تھیں۔[الموطأ 1/375 ح853 وسنده صحيح]
➏ کھڑے ہو کر پانی وغیرہ پینا جائز ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم کھڑے ہونے کی حالت میں پیتے تھے۔۔۔۔۔ الخ [مسند أحمد 24/2 ح4765 وسنده حسن، و صححه ابن الجارود: 867 وابن حبان، الاحسان: 522٠، يزيد بن عطارد و ثقه ابن حبان وابن الجارد وفهو حسن الحديث وللحديث شاهد صحيح عند ابن حبان، الاحسان: 5301، دوسرا نسخه: 5325، موارد الظمآن: 1369، وسنن الترمذي: 1880، وقال: ”هذا حديث حسن صحيح غريب“]
◄ معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت والی احادیث منسوخ ہیں یا کراہیت تنزیہی پر محمول ہیں۔ واللہ اعلم
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 425 سے ماخوذ ہے۔