حدیث نمبر: 323
473- مالك عن هشام بن عروة عن أبيه أنه قال: سئل أسامة بن زيد وأنا جالس معه: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير فى حجة الوداع حين دفع؟ قال: كان يسير العنق، فإذا وجد فرجة نص. قال هشام: والنص فوق العنق.
حافظ زبیر علی زئی

عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں (وہاں) بیٹھا ہوا تھا جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حجتہ الوداع میں (عرفات سے) واپسی کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز اور کشادہ قدموں سے چلتے پھر جب کھلا مقام پاتے تو مزید تیز رفتار سے چلتے ۔ ہشام (بن عروہ راوی حدیث) نے کہا: عَنَق سے نص زیادہ (تیز چلنا) ہوتا ہے ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 323
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «473- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 392/1 ح 904 ، ك 20 ب 57 ح 176) التمهيد 201/22 ، الاستذكار : 844 ، و أخرجه البخاري (1666) من حديث مالك به .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے تیز چلنا چاہئیے`
«. . . 473- مالك عن هشام بن عروة عن أبيه أنه قال: سئل أسامة بن زيد وأنا جالس معه: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير فى حجة الوداع حين دفع؟ قال: كان يسير العنق، فإذا وجد فرجة نص. قال هشام: والنص فوق العنق. . . .»
. . . عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں (وہاں) بیٹھا ہوا تھا جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حجتہ الوداع میں (عرفات سے) واپسی کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز اور کشادہ قدموں سے چلتے پھر جب کھلا مقام پاتے تو مزید تیز رفتار سے چلتے۔ ہشام (بن عروہ راوی حدیث) نے کہا: عَنَق سے نص زیادہ (تیز چلنا) ہوتا ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 323]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1666، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپس جاتے ہوئے حتی الوسع تیز چلنا چاہئے بشرطیکہ دوسرے حاجی تکلیف محسوس نہ کریں۔
➋ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وادی محسر سے تیزی سے گزرتے تھے۔ دیکھئے: [الموطأ 1 / 392 ح905 وسنده صحيح]
تنبیہ:
عرفات سے واپسی والے دن مغرب اور عشاء کی نمازیں عرفات میں نہیں بلکہ مزدلفہ میں پڑھنی چاہئیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 473 سے ماخوذ ہے۔