حدیث نمبر: 29
524- وعن أبى بكر بن نافع عن أبيه عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحى.
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں کاٹنے اور داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 29
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «524- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 947/2 ح 1828 ، ك 51 ب 1 ح 1) التمهيد 142/24 ، الاستذكار : 1764 و أخرجه مسلم (259/53) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´امور فطرت کا بیان`
«. . . 524- وعن أبى بكر بن نافع عن أبيه عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحى. . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں کاٹنے اور داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 29]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 259/53، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ داڑھی رکھنا فرض ہے۔
➋ مونچھیں تراشنا اور منڈوانا دونوں طرح صحیح ہے۔ امام سفیان بن عینیہ المکی رحمہ اللہ نے مونچھیں منڈوائی تھیں۔ دیکھئے [التاريخ الكبير لا بن ابي خيثمه ح 387 وسنده صحيح، دوسرا نسخه 311]
● ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی مونچھیں مسواک رکھ کر کاٹ دی تھیں یا انھیں کاٹنے کا حکم دیا تھا۔ [سنن ابي داود 188، وسنده صحيح] مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بڑی مونچھیں تھیں۔
● سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بعض خاص موقعوں پر مونچھوں کو تاؤ دیتے تھے۔ [العلل ومعرفة الرجال: 1507، وسنده صحيح، دوسرا نسخه: 73/2 ح 1589] نیز دیکھئے: [طبقات ابن سعد 326/3 وسنده صحيح]
بہتر یہی ہے کہ مونچھوں کو مونڈنے کے بجائے تراشا جائے۔
➌ سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کے آثارکو مد نظر رکھتے ہوئے عرض ہے کہ داڑھی کو بالکل چھوڑ دینا اور قینچی نہ لگانا افضل ہے تاہم ایک مشت سے زیادہ کو کاٹنا جائز ہے۔ والله اعلم
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 524 سے ماخوذ ہے۔