حدیث نمبر: 28
419- وعن سعيد المقبري عن أبيه عن أبى هريرة قال: خمس من الفطرة: تقليم الأظفار، وقص الشارب، ونتف الإبط، وحلق العانة، والاختتان.حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : ناخن تراشنا ، مونچھیں کٹوانا ، بغلوں کے بال نوچنا ، زیرناف شرمگاہ کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´امور فطرت کا بیان`
«. . . 419- وعن سعيد المقبري عن أبيه عن أبى هريرة قال: خمس من الفطرة: تقليم الأظفار، وقص الشارب، ونتف الإبط، وحلق العانة، والاختتان. . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ناخن تراشنا، مونچھیں کٹوانا، بغلوں کے بال نوچنا، زیرناف شرمگاہ کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 28]
«. . . 419- وعن سعيد المقبري عن أبيه عن أبى هريرة قال: خمس من الفطرة: تقليم الأظفار، وقص الشارب، ونتف الإبط، وحلق العانة، والاختتان. . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ناخن تراشنا، مونچھیں کٹوانا، بغلوں کے بال نوچنا، زیرناف شرمگاہ کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 28]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري فى الادب المفرد 1294، من حديث مالك به وللحديث لون آخر عند النسائي 8/128 ح5047، ورواه البخاري 5859، ومسلم 257، من حديث سعيد بن المسيب عن ابي هريرة به مرفوعًا والحديثان صحيحان والحمدلله]
تفقه:
➊ اس حدیث میں جن پانچ اُمور کا ذکر آیا ہے یہ دین فطرت میں سے ہیں۔ ناخن تراشنے ہوں یا مونچھیں کٹوانا وغیرہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں کی حد ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے لئے مونچھیں کٹوانے، ناخن تراشنے، بغلوں کے بال نوچنے اور شرمگاہ کے بال مونڈنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے کہ چالیس راتوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ [صحيح مسلم: 258، دارالسلام: 599]
➋ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں داڑھی چھوڑنا، مسواک، ناک میں پانی ڈالنا، انگلیوں کے پورے دھونا اور استنجا کرنا بھی فطرت میں شامل کیا گیا ہے۔[ديكهئے صحيح مسلم: 261، دارالسلام: 604 و سنده حسن]
➌ درج بالا حدیث اگرچہ موطأ کے نسخوں میں موقوف ہے لیکن حافظ ابن عبدالبر نے اسے صحیح سند کے ساتھ امام مالک سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [التمهيد 21/56] نیز دیکھئے [صحيح بخاري 5891، وصحيح مسلم 257]
➍ مونچھیں کاٹنا یا کٹوانا بہتر ہے اور افضل یہ ہے کہ اتنی مونچھیں کاٹی جائیں کہ جِلد نظر آنے لگے۔ دیکھئے [صحيح بخاري قبل ح5888 تعليقاً، الاثرم نحو المعنيٰ بحواله تغليق التعليق 5/72، وسنده حسن]
◄ عبیداللہ بن عمر بن میسرہ القواریری رحمہ اللہ نے کہا: ایک دن سفیان بن عیینہ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی مونچھیں استرے سے مونڈ رکھی تھیں۔ [التاريخ الكبير لابن ابي خيثمه ص378، 379 ح387، وسنده صحيح] معلوم ہوا کہ بعض علماء کا مونچھیں مونڈنے کو مثلہ وغیرہ کہنا صحیح نہیں ہے۔
[وأخرجه البخاري فى الادب المفرد 1294، من حديث مالك به وللحديث لون آخر عند النسائي 8/128 ح5047، ورواه البخاري 5859، ومسلم 257، من حديث سعيد بن المسيب عن ابي هريرة به مرفوعًا والحديثان صحيحان والحمدلله]
تفقه:
➊ اس حدیث میں جن پانچ اُمور کا ذکر آیا ہے یہ دین فطرت میں سے ہیں۔ ناخن تراشنے ہوں یا مونچھیں کٹوانا وغیرہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں کی حد ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے لئے مونچھیں کٹوانے، ناخن تراشنے، بغلوں کے بال نوچنے اور شرمگاہ کے بال مونڈنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے کہ چالیس راتوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ [صحيح مسلم: 258، دارالسلام: 599]
➋ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں داڑھی چھوڑنا، مسواک، ناک میں پانی ڈالنا، انگلیوں کے پورے دھونا اور استنجا کرنا بھی فطرت میں شامل کیا گیا ہے۔[ديكهئے صحيح مسلم: 261، دارالسلام: 604 و سنده حسن]
➌ درج بالا حدیث اگرچہ موطأ کے نسخوں میں موقوف ہے لیکن حافظ ابن عبدالبر نے اسے صحیح سند کے ساتھ امام مالک سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [التمهيد 21/56] نیز دیکھئے [صحيح بخاري 5891، وصحيح مسلم 257]
➍ مونچھیں کاٹنا یا کٹوانا بہتر ہے اور افضل یہ ہے کہ اتنی مونچھیں کاٹی جائیں کہ جِلد نظر آنے لگے۔ دیکھئے [صحيح بخاري قبل ح5888 تعليقاً، الاثرم نحو المعنيٰ بحواله تغليق التعليق 5/72، وسنده حسن]
◄ عبیداللہ بن عمر بن میسرہ القواریری رحمہ اللہ نے کہا: ایک دن سفیان بن عیینہ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی مونچھیں استرے سے مونڈ رکھی تھیں۔ [التاريخ الكبير لابن ابي خيثمه ص378، 379 ح387، وسنده صحيح] معلوم ہوا کہ بعض علماء کا مونچھیں مونڈنے کو مثلہ وغیرہ کہنا صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 419 سے ماخوذ ہے۔