حدیث نمبر: 267
516- وبه: عن أبى سلمة عن أبى سعيد الخدري أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف فى العشر الوسط من رمضان، فاعتكف عاما. حتى إذا كان ليلة إحدى وعشرين، وهى الليلة التى يخرج من صبيحتها من اعتكافه، قال: ”من كان اعتكف معي فليعتكف فى العشر الأواخر، فقد رأيت هذه الليلة ثم أنسيته، وقد رأيتني أسجد فى صبيحتها فى ماء وطين، فالتمسوها فى العشر الآخر، والتمسوها فى كل وتر“ قال أبو سعيد: فأمطرت السماء تلك الليلة، وكان المسجد على عريش، فوكف المسجد. قال أبو سعيد: فنظرت عيناني رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبينه وأنفه أثر الماء والطين فى صبح واحد وعشرين.
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے پھر ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا حتی کہ اکیسویں (21 رمضان) کی رات ہوئی جس کی صبح آپ اعتکاف سے نکلتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو وہ آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے کیونکہ میں نے اس (قدر کی) رات کو دیکھا ہے ، پھر بھلا دیا گیا ہوں اور میں نے دیکھا کہ میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی پر سجدہ کر رہا تھا۔ “ لہٰذا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں تلاش کرو ۔ ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : اس رات بارش ہوئی اور مسجد کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی جو ٹپکنے لگی تھی ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری دونوں آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں (21) کی صبح کو پانی اور مٹی کا اثر تھا ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 267
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «516- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 319/1 ح 709 ، ك 19 ب6 ح 9) التمهيد 51/23 ، الاستذكار : 658 ، و أخرجه البخاري (2027) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´ایام اعتکاف`
«. . . 516- وبه: عن أبى سلمة عن أبى سعيد الخدري أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف فى العشر الوسط من رمضان، فاعتكف عاما. حتى إذا كان ليلة إحدى وعشرين، وهى الليلة التى يخرج من صبيحتها من اعتكافه، قال: "من كان اعتكف معي فليعتكف فى العشر الأواخر، فقد رأيت هذه الليلة ثم أنسيته، وقد رأيتني أسجد فى صبيحتها فى ماء وطين، فالتمسوها فى العشر الآخر، والتمسوها فى كل وتر" قال أبو سعيد: فأمطرت السماء تلك الليلة، وكان المسجد على عريش، فوكف المسجد. قال أبو سعيد: فنظرت عيناني رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبينه وأنفه أثر الماء والطين فى صبح واحد وعشرين. . . .»
". . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے پھر ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا حتی کہ اکیسویں (21 رمضان) کی رات ہوئی جس کی صبح آپ اعتکاف سے نکلتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو وہ آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے کیونکہ میں نے اس (قدر کی) رات کو دیکھا ہے، پھر بھلا دیا گیا ہوں اور میں نے دیکھا کہ میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی پر سجدہ کر رہا تھا۔ " لہٰذا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اس رات بارش ہوئی اور مسجد کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی جو ٹپکنے لگی تھی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری دونوں آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں (21) کی صبح کو پانی اور مٹی کا اثر تھا۔ . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 267]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 2027، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ تینوں عشروں میں اعتکاف جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ آخری عشرے میں اعتکاف کیا جائے تاکہ لیلۃ القدر کی فضیلت حاصل ہو سکے۔
➋ سجدہ کرتے وقت پیشانی کو خاک آلود ہونے سے بچانا نہیں چاہئے۔
➌ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور عاجزی کی اعلیٰ دلیل ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کا فرش کچا تھا۔
➎ لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے۔ دیکھئے: [الموطأ 283، مسلم: 1165/206]
➏ اعتکاف سنت ہے۔
➐ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، بعض اوقات وہ بھی کوئی دلیل بھول سکتا ہے۔
➑ اعتکاف ایک عشرے سے کم مثلاً ایک دن کا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 3144، وصحيح مسلم 1656، دارالسلام: 4294]
◈ پورا مہینہ اعتکاف بھی جائز ہے۔
➒ سجدے میں پیشانی اور ناک زمین پر رکھنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 516 سے ماخوذ ہے۔