حدیث نمبر: 257
464- وبه: أنها كانت تقول: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقبل بعض أزواجه وهو صائم، ثم تضحك.حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ پھر آپ (عائشہ رضی اللہ عنہا) ہنس پڑتی تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا؟`
«. . . 464- وبه: أنها كانت تقول: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقبل بعض أزواجه وهو صائم، ثم تضحك. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ (عائشہ رضی اللہ عنہا) ہنس پڑتی تھیں۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 257]
«. . . 464- وبه: أنها كانت تقول: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقبل بعض أزواجه وهو صائم، ثم تضحك. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ (عائشہ رضی اللہ عنہا) ہنس پڑتی تھیں۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 257]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1928، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
➋ ہنسنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لیتے تھے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔
➍ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ دونوں روزے کی حالت میں (بیوی کا) بوسہ لینے کی اجازت دیتے تھے۔ [المؤطا 292/1 ح655 و سنده صحيح]
معلوم ہوا کہ یہ اختیاری مسئلہ ہے یعنی اپنی شہوت پر کنٹرول رکھنے والے بڑی عمر والے شخص کے لئے اجازت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے۔
➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بوڑھے کے لئے روزے کی حالت میں بوسے کی اجازت دیتے اور نوجوان کے لئے مکروہ سمجھتے تھے۔ [الموطأ 1/293 ح657 وسنده صحيح]
➏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روزے دار کو بوسہ لینے اور بیوی کے ساتھ لیٹنے سے منع کرتے تھے۔ [الموطأ 1/293 ح658 وسنده صحيح]
معلوم ہوا کہ عام شخص خاص طور پر جوان آدمی کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ روزے کی حالت میں بوسہ نہ لے۔ واللہ اعلم
➐ ہر وقت شرم وحیا کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
➑ تحدیثِ نعمت اور لوگوں کی اصلاح کے لئے اپنا کوئی خاص واقعہ ضرورت کے پیشِ نظر سنایا جاسکتا ہے۔
➒ دین اسلام آسان اور دینِ فطرت ہے۔
[وأخرجه البخاري 1928، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
➋ ہنسنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لیتے تھے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔
➍ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ دونوں روزے کی حالت میں (بیوی کا) بوسہ لینے کی اجازت دیتے تھے۔ [المؤطا 292/1 ح655 و سنده صحيح]
معلوم ہوا کہ یہ اختیاری مسئلہ ہے یعنی اپنی شہوت پر کنٹرول رکھنے والے بڑی عمر والے شخص کے لئے اجازت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے۔
➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بوڑھے کے لئے روزے کی حالت میں بوسے کی اجازت دیتے اور نوجوان کے لئے مکروہ سمجھتے تھے۔ [الموطأ 1/293 ح657 وسنده صحيح]
➏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روزے دار کو بوسہ لینے اور بیوی کے ساتھ لیٹنے سے منع کرتے تھے۔ [الموطأ 1/293 ح658 وسنده صحيح]
معلوم ہوا کہ عام شخص خاص طور پر جوان آدمی کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ روزے کی حالت میں بوسہ نہ لے۔ واللہ اعلم
➐ ہر وقت شرم وحیا کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
➑ تحدیثِ نعمت اور لوگوں کی اصلاح کے لئے اپنا کوئی خاص واقعہ ضرورت کے پیشِ نظر سنایا جاسکتا ہے۔
➒ دین اسلام آسان اور دینِ فطرت ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 464 سے ماخوذ ہے۔