حدیث نمبر: 251
435- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”السفر قطعة من العذاب يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه فإذا قضى أحدكم نهمته من وجهه فليعجل إلى أهله .“حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، وہ آدمی کو اس کی نیند ، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے پس جو شخص (سفر سے) اپنا مقصد پورا کر لے تو اسے چاہئے کہ جلدی گھر واپس لوٹ آئے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´سفر میں روزہ رکھنے کا اختیار ہے`
«. . . 435- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”السفر قطعة من العذاب يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه فإذا قضى أحدكم نهمته من وجهه فليعجل إلى أهله .“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ آدمی کو اس کی نیند، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے پس جو شخص (سفر سے) اپنا مقصد پورا کر لے تو اسے چاہئے کہ جلدی گھر واپس لوٹ آئے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 251]
«. . . 435- وبه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”السفر قطعة من العذاب يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه فإذا قضى أحدكم نهمته من وجهه فليعجل إلى أهله .“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ آدمی کو اس کی نیند، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے پس جو شخص (سفر سے) اپنا مقصد پورا کر لے تو اسے چاہئے کہ جلدی گھر واپس لوٹ آئے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 251]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1804، ومسلم 1927، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عام طور پر سفر میں کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے اسے عذاب کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔
➋ تکلیفوں پر صبر کرنا اہلِ ایمان کا طرزِ عمل ہوتا ہے۔
➌ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ «سافروا تصحوا» سفر کرو تم صحیح ہو جاؤ گے۔ مثلاً دیکھئے: [التمهيد 22/37]
یہ تمام روایتیں ضعیف ومردود ہیں مثلاً ایک روایت میں ابوعلقمہ عبداللہ بن عیسیٰ الفروی المدنی الاصم سخت ضعیف ہے، دوسری میں محمد بن عبدالرحمٰن بن رداد المدینی ضعیف ہے، تیسری میں قاسم بن عبدالرحمٰن الانصاری سخت ضعیف ہے۔ ديكهئے [لسان الميزان 4/462] اور اس کی سند بھی ثابت نہیں ہے۔
➍ شرعی عذر اور مناسب وجوہات کے بغیر گھر سے باہر نہیں رہنا چاہئے۔
➎ نیند، خورد و نوش اور آرام و سکون اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں اور جسے یہ چیزیں میسر ہیں اس پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔
[وأخرجه البخاري 1804، ومسلم 1927، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عام طور پر سفر میں کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے اسے عذاب کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔
➋ تکلیفوں پر صبر کرنا اہلِ ایمان کا طرزِ عمل ہوتا ہے۔
➌ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ «سافروا تصحوا» سفر کرو تم صحیح ہو جاؤ گے۔ مثلاً دیکھئے: [التمهيد 22/37]
یہ تمام روایتیں ضعیف ومردود ہیں مثلاً ایک روایت میں ابوعلقمہ عبداللہ بن عیسیٰ الفروی المدنی الاصم سخت ضعیف ہے، دوسری میں محمد بن عبدالرحمٰن بن رداد المدینی ضعیف ہے، تیسری میں قاسم بن عبدالرحمٰن الانصاری سخت ضعیف ہے۔ ديكهئے [لسان الميزان 4/462] اور اس کی سند بھی ثابت نہیں ہے۔
➍ شرعی عذر اور مناسب وجوہات کے بغیر گھر سے باہر نہیں رہنا چاہئے۔
➎ نیند، خورد و نوش اور آرام و سکون اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں اور جسے یہ چیزیں میسر ہیں اس پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 435 سے ماخوذ ہے۔