حدیث نمبر: 19
275- مالك عن صيفي مولى ابن أفلح عن أبى السائب مولى هشام بن زهرة عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى الخندق، فبينما هو به إذ جاءه فتى من الأنصار حديث عهد بعرس، فقال: يا رسول الله، ائذن لي أحدث بأهلي عهدا، فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأقبل الفتى فإذا هو بامرأته بين البابين فأهوى إليها بالرمح ليطعنها، فقالت: لا تعجل حتى تدخل وتنظر، قال: فدخل فإذا هو بحية منطوية على فراشه، فلما رآها ركز فيها رحمه ثم نصبه، قال أبو سعيد: فاضطربت الحية فى رأس الرمح حتى ماتت وخر الفتى ميتا، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ”إن بالمدينة جنا قد أسلموا، فإذا رأيتم منهم شيئا فآذنوه ثلاثة أيام، فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتلوه، فإنما هو شيطان“ . قال مالك: يحرج عليه ثلاث مرات، تقول: أحرج عليك بالله واليوم الآخر أن لا تتبدا لنا ولا تخرج.
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ) خندق کی طرف گئے تو ایک انصاری نوجوان کو دیکھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں ایک بار پھر گھر سے ہو آؤں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی پھر وہ نوجوان اپنے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دونوں دروازوں کے پاس کھڑی ہے ۔ وہ نیزہ لے کر اپنی بیوی کو مارنے کے لئے بڑھا تو اس نے کہا : جلدی نہ کرو ، اندر داخل ہو کر دیکھو کیا ہے ؟ پھر وہ گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک سانپ کنڈلی مارے اس کے بستر پر موجود ہے ۔ جب اس نے سانپ کو دیکھا تو اسے نیزہ چبھوہ کر اٹھا لیا ۔ ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : سانپ نیزے پر تڑپ تڑپ کر مر گیا اور نوجوان بھی گر پڑا (اور فوت ہو گیا) ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینے میں ایسے جن ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں ۔ اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو انہیں تین دن تک تنبیہ کرو (کہ ہمارے گھر سے چلے جاؤ) پھر اگر وہ اس کے بعد نظر آئے تو اسے قتل کر دو کیونکہ یہ شیطان (کافر جن) ہے۔ “ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا : اس کے سامنے آ کر تین دفعہ کہے : تجھے اللہ اور قیامت کے دن کی قسم : نکل جا ، نہ ہمارے سامنے ظاہر ہونا اور نہ یہاں دوبارہ آنا ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 19
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «275- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 976/2 ، 977 ح 1894 ، ك 54 ب 12 ح 33 مطولاً) التمهيد 257/16 -259 ، الاستذكار : 1830 و أخرجه مسلم (2236) من حديث مالك به.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´جنات کا وجود برحق ہے`
«. . . 275- مالك عن صيفي مولى ابن أفلح عن أبى السائب مولى هشام بن زهرة عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى الخندق، فبينما هو به إذ جاءه فتى من الأنصار حديث عهد بعرس، فقال: يا رسول الله، ائذن لي أحدث بأهلي عهدا، فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأقبل الفتى فإذا هو بامرأته بين البابين فأهوى إليها بالرمح ليطعنها، فقالت: لا تعجل حتى تدخل وتنظر، قال: فدخل فإذا هو بحية منطوية على فراشه، فلما رآها ركز فيها رحمه ثم نصبه، قال أبو سعيد: فاضطربت الحية فى رأس الرمح حتى ماتت وخر الفتى ميتا، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "إن بالمدينة جنا قد أسلموا، فإذا رأيتم منهم شيئا فآذنوه ثلاثة أيام، فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتلوه، فإنما هو شيطان" . قال مالك: يحرج عليه ثلاث مرات، تقول: أحرج عليك بالله واليوم الآخر أن لا تتبدا لنا ولا تخرج. . . .»
". . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ) خندق کی طرف گئے تو ایک انصاری نوجوان کو دیکھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں ایک بار پھر گھر سے ہو آؤں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی پھر وہ نوجوان اپنے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دونوں دروازوں کے پاس کھڑی ہے۔ وہ نیزہ لے کر اپنی بیوی کو مارنے کے لئے بڑھا تو اس نے کہا: جلدی نہ کرو، اندر داخل ہو کر دیکھو کیا ہے؟ پھر وہ گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک سانپ کنڈلی مارے اس کے بستر پر موجود ہے۔ جب اس نے سانپ کو دیکھا تو اسے نیزہ چبھوہ کر اٹھا لیا۔ ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: سانپ نیزے پر تڑپ تڑپ کر مر گیا اور نوجوان بھی گر پڑا (اور فوت ہو گیا)۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مدینے میں ایسے جن ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو انہیں تین دن تک تنبیہ کرو (کہ ہمارے گھر سے چلے جاؤ) پھر اگر وہ اس کے بعد نظر آئے تو اسے قتل کر دو کیونکہ یہ شیطان (کافر جن) ہے۔" امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: اس کے سامنے آ کر تین دفعہ کہے: تجھے اللہ اور قیامت کے دن کی قسم: نکل جا، نہ ہمارے سامنے ظاہر ہونا اور نہ یہاں دوبارہ آنا . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 19]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 2236، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ جنات کا وجود برحق ہے۔
➋ جن نظر نہ آنے والی مخلوق ہے جس کے لئے ممکن ہے کہ سانپ وغیرہ مختلف جانوروں کی شکل اختیار کر لے۔
➌ مومن کی غیرت بھی برداشت نہیں کرتی کہ اس کی بیوی، بہن یا بیٹی بے پردہ ہو کر باہر نکلے۔
➍ انسان جنوں کو اور جن انسانوں کو اللہ کے اذن سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
➎ سانپ موذی جانور ہے جسے قتل کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما سالمنا هن منذ حاربنا هن، من ترك شيئاً خيفة فليس منا۔» ہم نے جب سے ان سانپوں سے جنگ شروع کی ہے تو کبھی صلح نہیں کی، جس نے ان میں سے کسی کو ڈر کے مارے چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احد 432/2 ح 9588وسنده حسن، سنن ابي داود: 5248]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 275 سے ماخوذ ہے۔