مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 175
84- مالك عن ابن شهاب عن رجل من آل خالد بن أسيد أنه سأل عبد الله ابن عمر فقال: يا أبا عبد الرحمن، إنا نجد صلاة الخوف وصلاة الحضر فى القرآن ولا نجد صلاة السفر، فقال عبد الله بن عمر: يا ابن أخي، إن الله تعالى بعث إلينا محمدا صلى الله عليه وسلم ولا نعلم شيئا، فإنما نفعل كما رأيناه يفعل. كمل حديث الزهري وهو خمسة وثمانون حديثا.
حافظ زبیر علی زئی

آل خالد بن اسید کے ایک آدمی (امیہ بن عبداللہ بن خالد) سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : اے ابوعبدالرحمٰن ! ہم قرآن میں نماز خوف اور نماز حضر کا ذکر پاتے ہیں اور نماز سفر کا ذکر نہیں پاتے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے بھتیجے ! اللہ نے ہمارے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، لہٰذا ہم تو اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسے ہم نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ زہری کی حدیثیں مکمل ہو گئیں ، یہ پچاسی (85) حدیثیں ہیں۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 175
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔