مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 15
505- مالك عن يحيى بن سعيد عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت قال: أخبرني أبى عن عبادة بن الصامت قال: بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة، فى اليسر والعسر، والمكره والمنشط، ولا ننازع الأمر أهله، وأن نقول أو نقوم بالحق حيثما كنا، لا نخاف فى الله لومة لائم.
حافظ زبیر علی زئی

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس چیز پر بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے چاہے آسانی ہو یا تنگی ، چاہے خوش ہوں یا ناخوش ، اور حکمرانوں سے جنگ نہیں کریں گے ۔ ہم جہاں بھی ہوں گے حق کہیں گے اور حق پر ثابت قدم رہیں گے ۔ ہم اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے ۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 15
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´اتباع رسول کا بیان`
«. . . 505- مالك عن يحيى بن سعيد عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت قال: أخبرني أبى عن عبادة بن الصامت قال: بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة، فى اليسر والعسر، والمكره والمنشط، ولا ننازع الأمر أهله، وأن نقول أو نقوم بالحق حيثما كنا، لا نخاف فى الله لومة لائم. . . .»
. . . سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس چیز پر بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے چاہے آسانی ہو یا تنگی، چاہے خوش ہوں یا ناخوش، اور حکمرانوں سے جنگ نہیں کریں گے۔ ہم جہاں بھی ہوں گے حق کہیں گے اور حق پر ثابت قدم رہیں گے۔ ہم اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 15]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 7199، 7200، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی بیعت اور ہر دور میں قیامت تک آپ کی اطاعت ہر حال میں فرض ہے۔
➋ دینِ اسلام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحیح العقیدہ مسلمان اصحابِ اقتدار «اولي الامر منكم» کی بیعت کے علاوہ تیسری کسی بیعت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
➌ حق پر ہمیشہ ثابت قدم رہنا چاہئے خواہ ساری دنیا اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
➍ مسلمان اہلِ ایمان حکمرانوں کے خلاف جنگ یا تصادم نہیں کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کلمة عدل عند إمام جائر» یعنی افضل جہاد یہ ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ انصاف بیان کیا جائے۔ [مسند أحمد 5 / 256 ح22207، وسنده حسن لذاته، ابن ماجه: 4012]
➎ سیدنا عبادہ بن الصامت البدری الانصاری رضی اللہ عنہ بہت زیادہ فضیلت کے حامل صحابی تھے۔
➏ کتاب وسنت پر عمل کے دوران میں لوگوں کے اعتراضات کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہئے۔
➐ سختی میں صبر اور کشادگی میں شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔
➑ اہل ایمان نہ آسانی وخوشی میں ایمان کا سودا کرتے ہیں اور نہ تنگی وغمی میں متزلزل ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 505 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔