موطا امام مالك رواية ابن القاسم
— سجدہ تلاوت و سہو کا بیان
باب: اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو کیا کرے
156- مالك عن داود بن الحصين عن أبى سفيان مولى ابن أبى أحمد قال: سمعت أبا هريرة يقول: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر فسلم فى ركعتين، فقام ذو اليدين فقال: أقصرت الصلاة يا رسول الله أم نسيت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل ذلك لم يكن. فقال: قد كان بعض ذلك يا رسول الله. فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس فقال: ”أصدق ذو اليدين؟“ فقالوا: نعم. فأتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد السلام..سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی ۔“ ذوالیدین نے کہا: یا رسول اللہ ! ان دونوں میں سے ایک بات ضرور ہوئی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف ر خ کر کے پوچھا: ”کیا زوالیدین نے سچ کہا: ہے ؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز پوری کی پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . فاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد السلام . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز پوری کی پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 136]
[وأخرجه مسلم 573/99، من حديث ما لك به، و من رواية يحيى بن يحيي وجاء فى الأصل: حميد]
تفقه:
➊ نماز میں بھول کر کلام کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➋ مختلف احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ سہو سلام سے پہلے اور سلام کے بعد دونوں طرح جائز ہے لیکن یاد رہے کہ بعض آل تقلید کا سجدہ سہو میں صرف ایک طرف سلام پھیرنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ سلام کے بعد تشہد پڑھ کر سلام پھیرنا بھی صحیح ہے اور مکمل تشہد کے بعد دو سجدے کر کے سلام پھیر دینا بھی صحیح ہے۔
➌ ذوالیدبن خرباق طلال رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے۔ بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین رضی اللہ عنہ تھے۔
➍ نماز میں بھول کر باتیں کرنے کا یہ واقعہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور یہ ان کی موجودگی میں ہوا تھا جیسا کہ حدیث کے الفاظ «صلّي بنا» سے ثابت ہے۔
➎ بعض الناس کا اپنے تقلیدی مذہب کی اندھی حمایت میں اس حدیث کو مضطرب قرار دینا غلط ہے۔
➏ اس حدیث سے صحابہ کرام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں کمال ادب و احترام ثابت ہوتا ہے۔
➐ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 128، 489، البخاري 1228، ومسلم 573/97]
حدیث میں ایک شخص کو لمبے ہاتھوں والا کہا گیا سو ایسا ذکر جائز ہے بشر طیکہ اس کی تحقیر کرنا مقصود نہ ہو اگر کہے کہ ذوالیدین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ بہادر ہو گیا یہ کیونکر ہو سکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ذوالیدین ایک عامی آدمی تھا ایسے لوگ بے تکلفی برت جاتے ہیں لیکن مقرب لوگ بہت ڈرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتے اور سب سے زیادہ عبادت کرنے والے اور بڑی محنت اٹھانے والے تھے (صلی اللہ علیہ وسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی میں کوئی اضافی صفت ہو تو اس کا ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کی توہین یا عیب جوئی مقصود نہ ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبے ہاتھوں والے کو ذوالیدین کہا اگرچہ کچھ اہل علم اس معاملے میں تشدد کرتے ہیں اور ایسے اوصاف بیان کرنے کو ناجائز کہتے ہیں، چنانچہ حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ حمید "الطّویل" کو غیبت میں شمار کرتے تھے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت آئی تو انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اس کے پست قد کو بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تونے اس کی غیبت کی ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 136/6)
لیکن امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ اگر ایسا اشارہ یا کنایہ اس کی شناخت کے لیے ہو تو جائز ہے اور اگر شناخت کے بجائے اس کی توہین وتحقیر مقصود ہوتو جائز نہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 575/10)
مسائل سہو آئندہ کتاب السهو میں بیان ہوں گے۔
بإذن الله تعالیٰ
ذو الیدین کا اصلی نام خرباق تھا۔
ان کے دونوں ہاتھ لمبے لمبے تھے اس لیے لوگ ان کو ذو الیدین کہنے لگے۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ درجہ یقین حاصل کرنے کے لیے اور لوگوں سے بھی شہادت لی جا سکتی ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ امر حق کا اظہار ایک ادنٰی آدمی بھی کرسکتا ہے۔
فقہی نکتۂ نظر سے یہاں شک وسہو کے لیے باب قائم کرنے کا موقع نہیں، کیونکہ اس کے لیے سہو کا باب الگ آئندہ آئے گا۔
امام بخاری ؒ نے اس لیے یہاں ذکر کیا کہ امام اور مقتدی کے مسائل چل رہے ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے علامہ ابن منیر ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس مسئلے میں محل اختلاف اس صورت میں ہے جب امام کو بھی شک ہو۔
اس کے برعکس اگر امام کو اپنے فعل پر یقین ہوتو پھر کسی مقتدی کے قول کا اعتبار نہیں ہوگا۔
(فتح الباري: 266/2)
1۔
پہلی حدیث میں واقد اپنے والد محمد بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈالا۔
اس روایت میں یہ شک تھا کہ ابن عمر ؓ سے بیان کی گئی ہے یا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے؟امام بخاری ؒ نے اس شک کو دور کرنے کے لیے نیز تشبیک کی وجہ بتانے کے لیے دوسری روایت بیان کی کہ عاصم بن محمد نے یہ روایت اپنے والد محمد بن زید سے سنی، لیکن وہ اسے یاد نہ رہی، پھران کی بھائی واقد بن محمد نے ٹھیک ٹھیک طریقے پر محمد بن زید ہی سے روایت بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے عبداللہ! اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم ایسے لوگوں کے درمیان رہ جاؤ گے جو کوڑے کرکٹ اور بھوسے کی طرح ہوں گے؟‘‘ اس روایت سے شک دور ہوگیا کہ اسے بیان کرنے والے عبداللہ بن عمرؓ نہیں بلکہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ ہیں۔
پھر تشبیک کی وجہ بھی معلوم ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مضمون سمجھانے کے لیے تمثیل کے طور پر انگلیوں کوانگلیوں میں ڈالا۔
چنانچہ یہ روایت امام حمیدی ؒ کی کتاب الجمع بین الصحیحین میں بایں اضافہ نقل ہوئی ہے کہ ان ردی اور بے کار لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ ان کے عہد وپیمان اور ان کی امانتیں تباہ ہوچکی ہوں گی اور وہ اس طرح ہوگئے ہوں گے، پھر آپ نے’’اس طرح‘‘ کی وضاحت کے لیے اپنی انگلیوں کوقینچی بنایا۔
(فتح الباری: 732/1)
2۔
بعض روایات میں تشبیک کی ممانعت ہے۔
حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اسے اچھی طرح بناتا ہے،پھر مسجد کی طرف جانے کی نیت لے کر گھر سے نکلتاہے تو وہ اپنی انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے کیونکہ وہ نماز ہی میں ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 386)
ابن ابی شیبہ میں مزید وضاحت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے توتشبیک نہ کرے کیونکہ یہ عمل شیطان کے اثر سے ہوتا ہے۔
‘‘ لیکن اس کی سند میں ضعیف اور مجہول راوی ہیں۔
امام بخاری ؒ نے یہ عنوان اس لیے قائم کیا ہے کہ جن روایات میں تشبیک کی ممانعت ہے۔
ان کی صحت محل نظر ہے یا وہ ممانعت حالت نماز پر محمول ہے، نیز اگر کسی صحیح مقصد کے پیش نظر کبھی ایسا کرلیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
جیسا کہ پہلی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک مقصد کی وضاحت کے لیے تشبیک فرمائی۔
امام بخاری ؒ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے ثابت کیا کہ ایسا کرنا مطلق طور پر جائز ہے۔
پھر حدیث ابوہریرہ ؓ سے ثابت فرمایا کہ مسجد میں ایسا عمل کیا جاسکتا ہے۔
اس بنا پر ابن منیر نے کہا ہے کہ ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ منع کی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ فضول اور بے کار طور پر ایسا کرنا منع ہے، اگر کسی حکمت کے پیش نظر ایسا کیا جائے تو جائز ہے، مثلاً: اپنے مدعا کی وضاحت کے لیے جیسا کہ عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث میں ہے، یا تفہیم کے لیے تمثیل کے طور پر معنویات کو محسوسات میں تبدیل کرنے کے لیے ایسا کیاجائے۔
جیسا کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو باہم شیر وشکر رہنے کے متعلق بیان فرمایا، پھر ہاتھوں کو قینچی بناکر بتایا کہ مسلمان باہمی طور پر ایسےملے جلے رہتے ہیں جس طرح عمارت کے پتھر ایک دوسرے کو اٹھائے رہتے ہیں، یاگہرے غور وخوض کی وجہ سے بے ساختہ ایسا ہوجائے۔
جیسا کہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے ایسے حالات میں تشبیک کی ممانعت نہیں ہے۔
نوٹ:۔
حدیث ابوہریرہ ؓ سےمتعلق دیگر مباحث اپنے مقام پر آئیں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
اگر ایک شخص کی خبر قابل عمل نہ ہوتی تو آپ ذوالییدین کے کہنے پر کچھ خیال ہی نہ فرماتے‘ اس سے خبر واحد کی دوسروں سے تصدیق کر لینا بھی ثابت ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین کی خبر واحد کو تسلیم کیا۔
مزید تسلی کے لیے دوسروں سے دریافت فرمایا: اگر ایک شخص کی خبر قابل عمل نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کی بات کو خاطر میں نہ لاتے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خبر واحد کی دوسروں سے تصدیق کر لینا بھی درست ہے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین کی خبر کو رد نہیں کیا بلکہ توثیق کے لیے دوسرے سے پوچھا کیونکہ وہ بیان کرنے میں اکیلا تھا ممکن تھا کہ وہ اس میں غلطی کر گیا ہو۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توثیق فرمائی اور بنیادی طور پر اسی کی بات کو قابل عمل ٹھہرایا۔
جس میں دوسرا سجدہ بھی مذکور ہے، لیکن تشہد مذکورنہیں تو معلوم ہوا کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد نہیں ہے۔
چنانچہ محمد بن سیرین سے محفوظ ہے اور جس حدیث میں تشہد مذکور ہے اس کو بیہقی اور ابن عبد الرؤف اور ابن عبد البر وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
(خلاصہ فتح البارى)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور بقیہ نماز ادا کی، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد الله أكبر کہا اور سابقہ سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا، پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور اللہ أکبر کہا، پھر اللہ أکبر کہتے ہوئے سجدہ کیا اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بعض اوقات سوال کیا جاتا کہ پھر آپ نے سلام پھیرا؟ تو فرماتے کہ مجھے عمران بن حصین ؓ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد سلام پھیرا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 482)
چنانچہ صحیح مسلم کی حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی حدیث میں صرف سلام پھیرنے کا ذکر ہے تشہد پڑھنے کا ذکر نہیں۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1293(574)
لیکن اشعث بن عبدالملک کی روایت میں تشہد پڑھنے کا ذکر ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 1039)
لیکن محدثین نے اس روایت میں تشہد پڑھنے کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے اور اس روایت کو محفوظ قرار دیا ہے جس میں صرف سلام پھیرنے کا ذکر ہے۔
(فتح الباري: 128/3)
اسی طرح حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی حدیث میں تشہد پڑھنے کا ذکر ہے۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 355/2)
اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ایک حدیث میں بھی تشہد پڑھنے کا ذکر ہے۔
(مسندأحمد: 428/8)
لیکن حافظ ابن حجر ؒ نے ان دونوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 129/3)
صحیح روایات میں سجدۂ سہو کے بعد تشہد پڑھے بغیر سلام پھیرنے کا ذکر ہے، لہذا اسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
پھر ابن عباس ؓ کے فعل اور حدیث مذکور سے ثابت کیا کہ سجدہ سہو کرنا چاہیے اس میں ان پر رد ہے جو اس بارے میں فرض اور نفل نمازوں کا امتیاز کرتے ہیں۔
امام بخاری ؒ کے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ حدیث میں لفظ صلاۃ مطلق ہے جو ہر قسم کی نماز پر مشتمل ہے، خواہ فرض ہو یا نفل۔
اس بنا پر ہر قسم کی نماز میں بھول چوک ہونے پر سجدۂ سہو کرنا ہو گا۔
لیکن دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ یہ محض اشتراک لفظی ہے، کیونکہ فرض اور نوافل کی شرائط میں واضح فرق ہے، نیز حدیث کے سابقہ طریق میں اذان اور تکبیر کا ذکر ہے اور فرض نماز کے لیے ہی اس قسم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
لیکن راجح موقف یہی ہے کہ ہر قسم کی نماز میں سجدۂ سہو کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے اسباب و مقاصد تو ہر قسم کی نماز میں ہوتے ہیں۔
(فتح الباري: 136/3)
(1)
امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ اگر کسی نے نماز ظہر یا عصر شروع کی، لیکن نادانستہ طور پر دوسری یا تیسری رکعت پر سلام پھیر دیا تو اس کی تلافی بایں طور ہو سکتی ہے کہ فوراً یاد آنے پر بقیہ نماز ادا کرے اور نماز کے سجدے کی طرح یا اس سے بھی طویل دو سجدے بطور سہو کرے۔
لیکن اس سلسلے میں جو روایت پیش کی ہے اس میں دوسری یا تیسری رکعت پر سلام پھیرنے کا ذکر نہیں ہوتا، تاہم دیگر روایات میں اس کی تفصیل ہے، چنانچہ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔
(حدیث: 1228)
اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ نماز عصر میں تیسری رکعت پر سلام پھیر دیا تھا۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1293(574)
نماز جیسے یا اس سے بھی طویل دو سجدے کرنے کا ذکر بھی صحیح بخاری میں ہے۔
(صحیح البخاري، السھو، حدیث: 1228) (2)
سجدۂ سہو سلام سے پہلے ہو یا بعد میں، اس میں اختلاف ہے۔
ہم یہاں شیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ کی تحقیق نقل کرتے ہیں۔
وہ فرماتے ہیں: سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنے کے دو مقام ہیں: ٭ جب نماز میں کسی قسم کی کمی ہو جائے، جیسا کہ عبداللہ ابن بحینہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ سہواً درمیانی تشہد چھوڑ دیا تھا تو آپ نے سلام سے پہلے دو سجدے کیے۔
یہ حدیث: (1224)
پہلے گزر چکی ہے۔
٭ جب دوران نماز میں تعداد رکعات کے متعلق شک پڑ جائے اور کسی ایک جانب رجحان نہ ہو سکے تو یقین پر بنیاد رکھتے ہوئے نماز کو مکمل کیا جائے، پھر سلام سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے جائیں۔
جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1272(671)
اسی طرح سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنے کے بھی دو مقام ہیں: ٭ اگر نماز میں کسی قسم کا اضافہ ہو جائے تو سلام کے بعد دو سجدے کیے جائیں، پھر دوبارہ سلام پھیرا جائے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث میں ہے۔
(صحیح البخاري، السھو، حدیث: 1226)
اس حدیث کے مطابق حکم عام ہے قطع نظر اس کے کہ نماز میں اضافے کا علم دوران نماز میں ہو یا سلام کے بعد۔
چونکہ نماز ظہر کی پانچ رکعت پڑھنے پر سجدۂ سہو کیا گیا ہے اور حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ آپ کو سلام کے بعد اضافے کا علم ہوا تھا، اس لیے آپ نے سلام کے بعد دو سجدے کیے ہیں۔
اس بنا پر مطلق طور پر اضافے کی صورت میں سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنا مناسب ہے۔
٭ اگر دوران نماز تعداد رکعات کے متعلق شک پڑ جائے اور کوشش و تحری سے ایک جانب رجحان ہو جائے تو اس صورت میں بھی سلام کے بعد ہی سجدۂ سہو کرنا ہو گا، جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ درستی کی کوشش کرتے ہوئے اپنی نماز مکمل کرے، پھر سلام پھیر کر آخر میں دو سجدے کرے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 401) (3)
اگر نماز میں دو سہو ہو جائیں ایک کا تقاضا سلام سے پہلے کا ہو اور دوسرے کا تقاضا سلام کے بعد کا تو سلام سے پہلے ہی دو سجدے کیے جائیں، مثلاً: ایک شخص نماز ظہر پڑھتے ہوئے اپنے خیال کے مطابق دوسری رکعت کے بعد، جو در حقیقت تیسری تھی، تشہد بیٹھ گیا۔
تشہد سے کھڑا ہوا تو اسے یاد آیا کہ وہ دو رکعتوں کے بعد تشہد بھول گیا تھا اور دوسری کی بجائے تیسری کے بعد اس نے تشہد کیا ہے جو کہ زائد ہے اور اب اس کی چوتھی رکعت ہے تو وہ اپنی یہ رکعت مکمل کر کے سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دے۔
اس صورت میں تشہد اول ترک کرنے کی وجہ سے سلام سے پہلے سجدۂ سہو ہے اور تیسری رکعت میں جلوس کا اضافہ کرنے کی وجہ سے سلام کے بعد سہو ہے، لیکن سلام سے پہلے سجدۂ سہو کو ترجیح دی جائے گی۔
(سجودالسھو للشیخ محمد بن صالح العثیمین)
الغرض سجدۂ سہو سلام سے پہلے یا بعد دونوں طرح جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے دونوں طرح ثابت ہے، البتہ افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ ان سجدوں کے جو اسباب سلام سے پہلے کسی فعل کے ساتھ مقید ہوں، وہاں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور جہاں سلام کے بعد مقید ہوں وہاں سلام کے بعد کیے جائیں اور جن اسباب کی ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی قید نہ ہو ان میں زیادتی اور نقصان کو دیکھے بغیر نمازی کو سلام سے پہلے اور بعد میں سجدے کرنے کا اختیار ہے۔
واللہ أعلم۔
دونوں کام ہی نہیں ہوئے اور بخاری میں آیا ہے: (لَمْ أنسِ وَلَمْ تُقْصَر)
نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں اس لیے ذوالیدین نے کہا: (قَدْ كاَنَ بَعْضُ ذٰلِكَ)
کچھ تو ہوچکا ہے اس سے اس قاعدہ کی تائید ہوتی ہے کہ اگر کُلُّ کا لفظ کَانَ منفی سے پہلے آئے تو ہرہر فرد کی نفی ہوتی ہے۔
اور بعد میں آئے (كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ)
تو مجموعہ یعنی سب کی نفی ہوتی ہے۔
یعنی دونوں کام نہیں ہوئے ایک ہوا ہے۔
اورآپﷺ کا فرمانا کہ کوئی کام نہیں ہوا۔
نہ نماز کم ہوئی اور نہ میں بھولا ہوں۔
اپنے نقطہ نظر سے ہے کیونکہ آپﷺ کا تصور یہی تھا میں نے نماز چار رکعت ہی پڑھائی ہے اس لیے اگر کوئی انسان اپنے تصور کی رو سے صحیح سمجھتے ہوئے واقعہ کے خلاف کہہ دے تو اس کو جھوٹا قرار نہیں دیا جائے گا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 394]
1؎:
سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابو حنیفہ کا قول محض رائے پر مبنی ہے، جب کہ آئمہ کرام مالک بن انس، شافعی، احمد بن حنبل اور بقول امام نووی سلف و خلف کے تمام جمہور علماء مذکور بالا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی صحیح حدیث کی بنیاد پر یہی فتویٰ دیتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں، کہ اگر کوئی بھول کر اپنی نماز میں ایک رکعت اضافہ کر بیٹھے تو اُس کی نماز نہ باطل ہو گی اور نہ ہی فاسد، بلکہ سلام سے پہلے اگر یاد آ جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کر لے اور اگر سلام کے بعد یاد آئے تو بھی سہو کے دو سجدے کر لے، یہی اُس کے لیے کا فی ہے، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ نے کوئی اور رکعت پڑھ کر اس نماز کو جُفت نہیں بنایا تھا۔
(دیکھئے: تحفۃ الأحوذی: 1/304طبع ملتان)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ چنانچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 397]
1؎:
یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر یا عصر کی) دو رکعت پڑھ کر (مقتدیوں کی طرف) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ “ لوگوں نے عرض کیا: ہاں (آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 399]
1؎:
اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں، صرف یہ کمزور دعوی ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے، کیونکہ ذوالیدین رضی اللہ کا انتقال غزوہ بدر میں ہو گیا تھا، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا، حالانکہ بدر میں ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی، نیز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا (جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے) پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے۔
2؎:
یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ ﷺ نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی، اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع علیہ السلام (نبی اکرم ﷺ) کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1030]
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث امام مالک، لیث اور ابن وہب وغیرہ کے نزدیک ایسے افراد کے لئے ہے جو وسوسے کے مریض ہوں۔ شک و شبہ ان سے کسی طرح دور ہوتا ہی نہ ہو اس قسم کے لوگ اپنے یقین کی بنیاد پر جب نماز مکمل کر لیں تو سجدے کر لیا کریں۔ [عون المعبود]
مذکورہ حدیث [1029] بھی بربنائے صحت اسی مفہوم پر محمول ہو گی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے، پھر سلام پھیرا، راوی کہتے ہیں: اس کا ذکر ذوالیدین والی حدیث میں بھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1331]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم کو) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ” ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ “ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1231]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ” کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1230]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، تو آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1228]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا (کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم (بھی) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ” ذوالیدین “ (دو ہاتھوں والا) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے “، آپ نے (لوگوں سے) پوچھا: ” کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ “ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (ایسا ہی ہے) چنانچہ آپ (مصلے پر واپس آئے) اور وہ (دو رکعتیں) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1225]
➋ ”غصے میں“ دراصل یہ آپ کی طبع لطیف پر نماز کے سہو کا اثر تھا جسے غصہ خیال کیا گیا۔
➌ ”ڈرے رہے“ اللہ! اللہ! کیا کہنے آپ کے رعب کے کہ آپ کے بے تکلف اور قریب ترین دوست بلکہ یار غار بھی آپ سے ڈر رہے ہیں۔ دراصل وہ آپ کے مقام و مرتبہ سے کماحقہ آگاہ تھے۔ اس لیے دوستی اور بے تکلفی کے باوجود بھی آپ کے احترام کو ملحوظ رکھتے تھے۔ وہ جتنے زیادہ قریبی تھے اتنا ہی زیادہ آپ کے ادب و احترام کا خیال کرتے تھے۔
➍ حضرت ذوالیدین اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنا جب کہ ابھی کچھ نماز باقی تھی، دلیل ہے کہ نماز کو مکمل سمجھ کر کلام یا کوئی اور عمل کرنا معاف ہے۔ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں سجود سہو کافی ہیں۔ احناف ایسی صورت میں نماز نئے سرے سے پڑھنے کے قائل ہیں اور اس حدیث کو ابتدائی دور سے متعلق بتاتے ہیں جب کلام (نماز میں) منع تھا، حالانکہ اس حدیث کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو اس نماز میں مقتدی بھی تھے۔ اور ان کا اسلام 7ھ کا ہے جب کہ کلام کی حرمت تو بہت ابتدائی دور کی بات ہے۔
➎ انسان ہونے کے لحاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نسیان لاحق ہو سکتا ہے جس طرح دوسرے انسانی عوارض، مثلاً: بیماری وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے نہ بھولنے کی ضمانت قرآن مجید کے بارے میں دی ہے۔ ویسے وہاں بھی (الا ماشآء اللہ) کی صراحت ہے۔
➏ یہ سجدے آپ نے سلام کے بعد ادا کیے ہیں۔ گویا سجدۂ سہو سلام کے بعد بھی ہو سکتا ہے اور پہلے بھی۔ جس کی تفصیل ابتدائیہ میں گزر چکی ہے۔
➐ جب واقعہ ثقات کی ایک مجلس کا ہو اور عادتاً سبھی کا غافل ہونا محال ہو اور ان میں سے ایک ثقہ دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ بیان کرے تو اس اکیلے کی بات قبول نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ اس کی دیگر ہم نشین تصدیق نہ کر دیں۔
➑ اس حدیث سے استصحاب پر عمل کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ استصحاب کا مطلب ہے پہلے سے موجود حکم پر ثابت رہنا تاوقتیکہ کوئی نیا حکم آ جائے جو پہلے حکم کو تبدیل یا منسوخ کر دے۔ ذوالیدین نے اسی بنا پر سوال کیا، باوجود اس کے کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ایک شرعی حیثیت رکھتا ہے اور اصل عدم سہو ہے اور نسخ بھی ممکن تھا۔ باقی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جو خاموش رہے، وہ سابقہ حکم کے بارے میں متردد تھے کہ آیا وہ مسنوخ ہو گیا ہے یا کہ نہیں۔ اور جو صحابہ جلدی چلے گئے انہوں نے یقینی طور پر سمجھ لیا کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے اور نماز کم ہو گئی ہے۔ اس سے احکام شرعیہ میں اجتہاد کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
➒ نماز میں کئی بار بھولنے کی وجہ سے متعدد دفعہ سجود سہو کرنے کی ضرورت نہیں، صرف ایک ہی دفعہ کافی ہیں۔ تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ ملاحظہ فرمائیے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء (یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1214]
فوائد و مسائل:
نماز باجماعت کے بعد اپنی جگہ سے اٹھ سکتے ہیں۔
اگرچہ مسجد میں دوسری جگہ بیٹھنے کا ارادہ ہو تاہم نماز کی جگہ بیٹھ رہنا ثواب کا باعث ہے۔
ایسے شخص کے لئے فرشتے دعایئں کرتے ہیں۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 799)
(2)
کسی کی بات کی تحقیق کرلینا اس پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں ہوتا۔
بلکہ یقین میں اضافے کے لئے ہوتا ہے۔
(3)
اگر کوئی شخص اپنی کسی خاص جسمانی ساخت (مثلا چھوٹا قد یادبلاجسم وغیرہ)
کی وجہ سے کسی خاص نام سے مشہور ہوجائے تو اسے اس نام سے ذکر کرنا جائزہے۔
جیسے رسول اللہ ﷺنے اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالیدین (ہاتھوں والا)
كہہ کر یاد فرمایا کیونکہ اس کے ہاتھ لمبے تھے لیکن اس نام سے پکارنے سے تحقیر ظاہر ہو تو یہ نام نہ لیں بلکہ بہتر نام یے ذکر کریں)
(4)
سلا م کے بعد سجدہ سہو کیا جائے تو اس کے بعد دوبارہ سلام پھیرنا چاہیے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1216]
فوائد ومسائل: (1)
نماز سب سے اہم عبادت اور بندے کا اللہ سے تعلق قائم کرنے والا عمل ہے۔
اس لئے شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے۔
کہ وہ بندے کو ا س سے فائدہ نہ اٹھانے دے۔
(2)
خیالات کو نماز میں مرکوز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پھر بھی اگر توجہ نہ رہے تو جب خیال آئے پھر نماز کی طرف توجہ کرلے۔
(3)
نماز کے دوران میں خیالات کسی اور طرف متوجہ ہوجانے کی وجہ سے بعض اوقات نماز کی رکعات میں شک ہوجاتا ہے۔
اس صورت میں جب فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو سجدہ سہوکرلینا چاہیے۔
(4)
سجدہ سہو سے بعض مسائل گزشتہ ابواب میں ذکر کیے جا چکے ہیں۔
سجدہ سہو سلام سے پہلے بھی جائز ہے اور سلام کے بعد بھی۔
دیکھئے [هدية المسلمين ص83 ح37]
سلام سے مراد دونوں طرف سلام پھیرنا ہوتا ہے، الا یہ کہ تخصیص کی کوئی دلیل ہو۔
بعض الناس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف سلام پھیرا جائے، یہی جمہور کا مذہب ہے۔“! [فتاوي عالمگيري ج1 ص125]
اس دعوے کی کوئی دلیل کسی حدیث یا کسی صحابی سے ثابت نہیں ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1217]
مذکورہ بالا صورت میں سوچنا چاہیے کہ کتنی رکعتیں ہوئی ہیں۔
جس طرف دل زیادہ مائل ہو اسی کوصحیح تعداد سمجھ کرنماز پوری کرے۔
اور آخر میں سجدہ سہو کرے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کم تعداد کوصحیح سمجھ کر نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرکے سلام پھیر لے۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن احدكم إذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى، فإذا وجد ذلك احدكم فليسجد سجدتين وهو جالس . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے تو اس کے پاس شیطان آ کر اس کی نماز کے بارے میں شک و شبہ ڈالتا ہے حتیٰ کہ اسے یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ کتنی نماز پڑھ چکا ہے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی حالت پائے تو بیٹھے بیٹھے (آخری تشہد کے آخر میں) دو سجدے کرے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 133]
[وأخرجه البخاري 1232، و مسلم 389/82 بعدح 529، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ خنزب نامی شیطان کا یہ کام ہے کہ وہ نمازیوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ [ديكهئے: صحيح مسلم 2203/68]
● غنیتہ الطالبین کی ایک موضوع (من گھڑت) روایت میں شیطان کے بارے میں ”حدیث“ کا لفظ آیا ہے جو کہ کتابت کی غلطی ہے۔
➋ نماز میں بھول چوک ہو جانے پر سجدہ سہو واجب و مسنون ہے۔
● رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ»
”ہر سہو کے لئے سلام کے بعد دو سجدے ہیں۔“ [سنن ابي داود: 1038، وسنده حسن]
تنبیہ:
دوسرے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سہو کے دو سجدے سلام سے پہلے بھی جائز ہیں اور سلام کے بعد بھی۔
➌ شیعوں کے امام ابن بابویہ القمی نے لکھا ہے: «إن الغلاة والمفوضة لعنهم الله ينكرون سهو النبى صلى الله عليه وسلم.... وإنما أسهاه ليعلم أنه بشر مخلوق فلا يتخذ ربا معبودا دونه وليعلم الناس بسهوه حكم السهو»
”اللہ تعالی کی غالیوں اور مفوضہ (رافضیوں) پر لعنت ہو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سہو (بھول) کا انکار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس لئے بھلایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ بشر مخلوق ہیں اور لوگ آپ کو رب معبود نہ بنا لیں، دوسرے یہ کہ لوگوں کو سہو کے احکام مسائل معلوم ہو جائیں۔“ [من لايحضره و الفقيه ج 1ص 234]
➍ سجدہ سہو میں صرف ایک طرف سلام پھیرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
● فتاویٰ عالمگیری میں بغیر دلیل کے لکھا ہوا ہے: ”صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف سلام پھیرے یہی جمہور کا مذہب ہے۔“ [1125/1]
● جمہور کی طرف یہ انتساب واقعہ کے خلاف اور حوالے کے بغیر ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين: اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”اصدق ذو اليدين؟“ فقال الناس: نعم. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين اخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو (ایک صحابی) ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) کہا: ”کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟“ تو لوگوں نے کہا: جی ہاں! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور (ظہر یا عصر کی) آخری دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی تو اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا پھر (تکبیر کہہ کر) سر اٹھایا پھر تکبیر کہی تو اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 135]
[وأخرجه البخاري 1228، من حديث مالك به ورواه مسلم 573/97، من حديث أيوب السخياني به]
تفقه:
➊ اگر کوئی شخص نماز مکمل کرنے سے پہلے بھول کر سلام پھیر دے تو اسے چاہئے کہ اس نماز کو شمار کر کے باقی رکعتیں پڑھ کر آخر میں سجدہ سہو کرے۔ سجدہ سہو نماز کے سجدوں کے برابر یا طویل تر ہونا چاہئے۔
➋ بھول کر نماز میں کلام کرنے یا سلام پھیرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➌ اگر کسی حدیث میں شک ہو تو اس کی تحقیق کرنا مسنون ہے اور صحیح ثابت ہونے کے بعد اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
➍ انبیاء و رسل کو دنیاوی امور اور نماز وغیرہ میں سہو ہو سکتا ہے لیکن یاد رہے کہ تبلیغ دین، اخبارِ سابقہ اور حوالے بیان کرنے میں کبھی سہو نہیں ہو سکتا۔
➎ یقین کو شک کی بنیاد پر چھوڑنا جائز نہیں ہے۔
➏ اگر روایت میں مخالفت ہو اور تطبیق ممکن نہ ہو تو ایک کے مقابلے میں جماعت کی روایت ہی راجح ہے۔
➐ سجدہ سہو میں تکبیر مسنون ہے
➑ بعض الناس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ اس دعوے کی تفصیلی ابطال کے لئے دیکھئے: [التمهيد 364/1]
➒ یہ کہنا کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے، غلط ہے کیونکہ غزوہ بدر میں تو ذوالشمالین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اور ذوالیدین (خرباق رضی اللہ عنہ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کافی عرصہ بعد تک زندہ رہے ہیں۔
➓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے ورنہ تحقیق کے لئے لوگوں سے کیوں سوال کرتے؟ نیز دیکھئے: [ح 156]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از دوپہر کی دو نمازوں (ظہر و عصر) میں سے ایک میں دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے رکھی ہوئی لکڑی کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور اپنے ہاتھ اس پر رکھ لئے۔ نمازیوں میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کرنے سے ذرا خوفزدہ تھے۔ جلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے تو لوگوں نے آپس میں سرگوشی کے انداز میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ ایک آدمی تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے) ذوالیدین کہہ کر بلاتے تھے، (اس) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ (آج) بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی کی گئی ہے۔ ‘‘ اس شخص نے پھر عرض کیا ہاں آپ ضرور بھول گئے ہیں۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (جو چھوٹ گئی تھیں) پڑھیں اور سلام پھیرا پھر «الله اكبر» کہہ کر معمول کے سجدوں کی طرح سجدہ کیا یا اس سے ذرا لمبا پھر سجدہ سے «الله اكبر» کہہ کر سر اوپر اٹھایا پھر «الله اكبر» کہہ کر (زمین پر) رکھا اور معمول کے سجدہ کی طرح یا ذرا اس سے طویل سجدہ کیا اور پھر «الله اكبر» کہہ کر اپنا سر اٹھایا۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ عصر کی نماز تھی اور ابوداؤد میں مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ’’ کیا ذوالیدین نے ٹھیک کہا ہے؟ ‘‘ تو لوگوں نے سر ہلا کر اشاروں سے کہا ہاں! یہ اضافہ صحیحین میں بھی ہے لیکن ان میں «فقالوا» کے لفظ کے ساتھ مروی ہے (یعنی زبان سے انہوں نے کہا) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک اللہ کی جانب سے یقین نہ ہوا اس وقت سجدہ سہو نہیں کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 263»
«أخرجه البخاري، الصلاة، باب تشبيك الأصابع في المسجد وغيره، حديث:482، والسهو، باب يكبر في سجدتي السهو، حديث:1229، ومسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:573، وأبوداود، الصلاة، حديث:1008، وهو حديث صحيح، وحديث:"ولم يسجد حتي يقَّنه الله تعاليٰ ذلك" أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1012 وسنده ضعيف، فيه محمد بن كثير الصنعاني وهو ضعيف، ضعفه الجمهور من جهة سوء حفظه واختلط أيضًا.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو سرزد ہوا ہے اور یہ نبوت کے منافی نہیں۔
2.اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ بھی انسان تھے۔
سہو وغیرہ ایک انسان سے ہی سرزد ہوتا ہے۔
جس طرح آپ نے فرمایا: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِي» (صحیح مسلم‘ المساجد‘ باب السھو في الصلاۃ والسجودلہ‘ حدیث:۵۷۲) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہ تھے اور نہ آپ نے کبھی عالم ما کان وما یکون ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
اگر آپ کو علم غیب ہوتا تو سہو نہ ہوتا اور پھر تصدیق کے لیے لوگوں سے دریافت نہ فرماتے کہ کیا ذوالیدین نے ٹھیک اور سچ کہا ہے؟ سہو کی تصدیق ہونے پر اسے تسلیم کر لیا۔
3. اگر غلطی سرزد ہو جانے پر کوئی اصلاح کرے تو اسے ثابت ہو جانے پر مان لینا چاہیے۔
4. اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سجدۂ سہو کرتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنا چاہیے۔
5.اس حدیث سے سجدۂ سہو سلام سے پہلے ثابت ہے۔
6.یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلا تشہد بھول جائے تو اس کی تلافی سہو کے دو سجدوں سے ہو جاتی ہے۔
7. اس حدیث میں تو صرف «صَلَّی النَّبِيُّ» ہے‘ مگر بعض روایات میں «صَلّٰی بِنَا» کے الفاظ منقول ہیں‘ یعنی ہمیں نماز پڑھائی۔
(صحیح البخاري‘ الصلاۃ‘ حدیث: ۴۸۲) اس صورت میں راوئ حدیث بھی ان نمازیوں میں شریک تھے‘ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ حدیث قرآن مجید کی آیت: ﴿ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ ﴾ سے منسوخ نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے نزول سے چار پانچ سال بعد اسلام لائے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ گفتگو سہواً نہیں قصداً ہوئی ہے‘ لہٰذا سلام کے بعد اصلاح نماز کے لیے اتنی سی بات نماز کو باطل نہیں کرتی۔
8. مذکورہ حدیث کے آخری ٹکڑے «وَلَمْ یَسْجُدْ حَتّٰی یَقَّنَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ» کی بابت علمائے محققین لکھتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔
وضاحت: «حضرت خرباق بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ» بنو سلیم سے ہونے کی وجہ سے سلمی کہلائے۔
سہیلی نے الروض الأنف میں لکھا ہے کہ انھوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔
اور ابوعوانہ نے اپنی صحیح میں کہا ہے کہ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مقام ذی خشب پر وفات پائی۔
اور بعض روایات میں ذوالیدین کی بجائے ذوالشمالین بھی وارد ہے۔
بعض کا خیال ہے کہ دونوں سے ایک ہی شخص مراد ہے جبکہ یہ وہم ہے۔
صحیح بات یہی ہے کہ یہ دو شخص تھے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ ذوالشمالین بدر میں شہید ہوئے ہیں اور یہ واقعہ بیان کرنے والے حضرت ابوہریرہ اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم ہیں اور یہ دونوں غزوۂ خیبر کے سال اسلام لائے ہیں۔
اور انھوں نے ذوالیدین کا اس واقعہ میں ذکر کیا ہے۔
اور یہ اسی وقت ہی ہوسکتا ہے جب ذوالیدین کو اس وقت زندہ مانا جائے اور اسے ذوالشمالین سے الگ سمجھا جائے۔