المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
يَفْتَرِقُ النَّاسُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ ثَلَاثَ فِرَقٍ باب: دجال کے خروج کے وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے
حدیث نمبر: 8987
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث عن دَرَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لو أنَّ مِقمَعًا من حديدٍ وُضِعَ في الأرض فاجتمع له الثَّقَلانِ، ما أقلُّوه من الأرض" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8773 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر (جہنمیوں کو مارنے والا) لوہے کا ایک گرز (ہتھوڑا) زمین پر رکھ دیا جائے اور اسے اٹھانے کے لیے تمام انسان اور جن جمع ہو جائیں تو بھی وہ اسے زمین سے نہیں اٹھا سکیں گے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف درّاج في أبي الهيثم.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ ابو الہیثم سے دراج کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
وأخرجه أحمد 17 / (11233) من طريق ابن لهيعة، عن دراج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (11233/17) نے ابن لہیعہ کے طریق سے، دراج سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
المقمع: قضيب من حديث معوجّ الرأس.
نوٹ / توضیح: "الْمِقْمَعُ": لوہے کی ایک سلاخ (گرز) جس کا سر مڑا ہوا ہوتا ہے۔
أقلُّوه: رفعوه.
نوٹ / توضیح: "أَقَلُّوهُ" کا مطلب ہے: انہوں نے اسے اٹھایا۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ ابو الہیثم سے دراج کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
وأخرجه أحمد 17 / (11233) من طريق ابن لهيعة، عن دراج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (11233/17) نے ابن لہیعہ کے طریق سے، دراج سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
المقمع: قضيب من حديث معوجّ الرأس.
نوٹ / توضیح: "الْمِقْمَعُ": لوہے کی ایک سلاخ (گرز) جس کا سر مڑا ہوا ہوتا ہے۔
أقلُّوه: رفعوه.
نوٹ / توضیح: "أَقَلُّوهُ" کا مطلب ہے: انہوں نے اسے اٹھایا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8987 سے ماخوذ ہے۔